کیوں تِرے دل میں مستقل واس نہیں مِلا ہمیں
چاہتوں کا صِلہ بھی کچھ خاص نہیں ملا ہمیں
زندگی بس وہی تھی جو سنگ تِرے گزر گئی
جب سے گئے ہو چین کا سانس نہیں ملا ہمیں
کوئی نہیں ہے روبرو تیری کمی ہے چار سُو
جب بھی تجھے پکارا تُو پاس نہیں ملا ہمیں
اب بھی ہے لا علاج وہ روگ جو تُو نے بخشا تھا
آج بھی کوئی تجھ سا گرداس نہیں ملا ہمیں
گھاؤ لگانے والے تجھ سے ہی دوا کی آس ہے
دنیا میں کوئی ہم سا حساس نہیں ملا ہمیں
کاظم علی
No comments:
Post a Comment