کیسا یہ اضطراب گل و یاسمن میں ہے
کس موسمِ بہار کا چرچا چمن میں ہے
آلامِ روزگار کا شکوہ نہ کر ندیم
پنہاں خوشی کا راز کمالِ محن میں ہے
غیرت پہ اس کی بار تھا احساں حیات کا
کہتے ہیں کم نگاہ کہ لاشہ کفن میں ہے
روشن جو بعد مرگ کرے آدمی کا نام
وہ نور کائنات کا دار و رسن میں ہے
سلجھا سکے جو کاکلِ گیتی کے پیچ و خم
شانہ کشی کا راز وہ شعر و سخن میں ہے
اک نازش حرم ہے تو اک بت کدے کی لاج
بس اتنا فرق شیخ میں اور برہمن میں ہے
اس حسنِ التفات کی تبدیلیوں کا راز
مضمر جبینِ یار کی ہر اک شکن میں ہے
بسمل وہی ہیں لوگ وہی بزم بھی مگر
پہلی سی اب وہ بات کہاں انجمن میں ہے
بسمل اعظمی
No comments:
Post a Comment