دکھ درد مِرے پاس بھی جوہر کی طرح ہیں
ظلمت میں وہ قندیل منور کی طرح ہیں
فٹ پاتھ پہ راتوں کو مزہ ملتا ہے گھر کا
ہم دن کے اجالے میں تو بے گھر کی طرح ہیں
ٹھہرے ہیں مگر آگے ہے چلنے کا ارادہ
ہم لوگ یہاں میل کے پتھر کی طرح ہیں
دکھ درد مِرے پاس بھی جوہر کی طرح ہیں
ظلمت میں وہ قندیل منور کی طرح ہیں
فٹ پاتھ پہ راتوں کو مزہ ملتا ہے گھر کا
ہم دن کے اجالے میں تو بے گھر کی طرح ہیں
ٹھہرے ہیں مگر آگے ہے چلنے کا ارادہ
ہم لوگ یہاں میل کے پتھر کی طرح ہیں
درد کی دھوپ بھرے دل کی تمازت لے کر
کیسے جائے کوئی احساس کی ہجرت لے کر
پھر کہاں جائیے؟ اب بیٹھیے ماتم کیجے
دل کے ہاتھوں میں یہ انمول شرافت لے کر
کیا کہیں اب تو نکلنا بھی بہت مشکل ہے
اپنے کاندھے پہ خود اپنی ہی ضمانت لے کر
ناؤ دریا میں چلے سامنے منجدھار بھی ہو
ڈوب جانے کے لیے ہر کوئی تیار بھی ہو
کیسے روکے گا سفر میں کوئی رستہ جب کہ
دل میں اک جوش بھی ہو پاؤں میں رفتار بھی ہو
ساری امیدیں اسی ایک سہارے کی طرف
ناامیدی کے سفر میں وہی دیوار بھی ہو
اک ندی میں سیکڑوں دریا کی طغیانی ملی
ڈوبنے والے کو مر جانے کی آسانی ملی
حاشیہ بردار سے پوچھا سمندر نے میاں
آج تک اک موج بھی تم کو نہ دیوانی ملی
سر پھری پاگل ہوا کو روکنا دشوار تھا
ایک ہی دن کے لیے تھی اس کو سلطانی ملی
بھلے ہی آنکھ مری ساری رات جاگے گی
سجا سجا کے سلیقے سے خواب دیکھے گی
اجالا اپنے گھروندے میں رہ گیا تو رات
کہاں قیام کرے گی کہاں سے گزرے گی
ہماری آنکھ سمندر کھنگالنے والی
یقین ہے کہ کبھی موتیوں سے کھیلے گی