Showing posts with label ظفر امام. Show all posts
Showing posts with label ظفر امام. Show all posts

Wednesday, 21 December 2022

دکھ درد مرے پاس بھی جوہر کی طرح ہیں

 دکھ درد مِرے پاس بھی جوہر کی طرح ہیں

ظلمت میں وہ قندیل منور کی طرح ہیں

فٹ پاتھ پہ راتوں کو مزہ ملتا ہے گھر کا

ہم دن کے اجالے میں تو بے گھر کی طرح ہیں

ٹھہرے ہیں مگر آگے ہے چلنے کا ارادہ

ہم لوگ یہاں میل کے پتھر کی طرح ہیں

Saturday, 17 December 2022

درد کی دھوپ بھرے دل کی تمازت لے کر

 درد کی دھوپ بھرے دل کی تمازت لے کر

کیسے جائے کوئی احساس کی ہجرت لے کر

پھر کہاں جائیے؟ اب بیٹھیے ماتم کیجے

دل کے ہاتھوں میں یہ انمول شرافت لے کر

کیا کہیں اب تو نکلنا بھی بہت مشکل ہے

اپنے کاندھے پہ خود اپنی ہی ضمانت لے کر

Monday, 12 December 2022

ناؤ دریا میں چلے سامنے منجدھار بھی ہو

 ناؤ دریا میں چلے سامنے منجدھار بھی ہو

ڈوب جانے کے لیے ہر کوئی تیار بھی ہو

کیسے روکے گا سفر میں کوئی رستہ جب کہ

دل میں اک جوش بھی ہو پاؤں میں رفتار بھی ہو

ساری امیدیں اسی ایک سہارے کی طرف

ناامیدی کے سفر میں وہی دیوار بھی ہو

Saturday, 10 December 2022

اک ندی میں سیکڑوں دریا کی طغیانی ملی

 اک ندی میں سیکڑوں دریا کی طغیانی ملی

ڈوبنے والے کو مر جانے کی آسانی ملی

حاشیہ بردار سے پوچھا سمندر نے میاں

آج تک اک موج بھی تم کو نہ دیوانی ملی

سر پھری پاگل ہوا کو روکنا دشوار تھا

ایک ہی دن کے لیے تھی اس کو سلطانی ملی

Friday, 9 December 2022

بھلے ہی آنکھ مری ساری رات جاگے گی

 بھلے ہی آنکھ مری ساری رات جاگے گی

سجا سجا کے سلیقے سے خواب دیکھے گی

اجالا اپنے گھروندے میں رہ گیا تو رات

کہاں قیام کرے گی کہاں سے گزرے گی

ہماری آنکھ سمندر کھنگالنے والی

یقین ہے کہ کبھی موتیوں سے کھیلے گی