کہاں اے پردہ نشیں خُود کو چھُپایا ہوا ہے
تیرا دیوانہ تِرے شہر میں آیا ہوا ہے
تیری تصویر نے تسخیر کیا ہے دل کو
تیرا ہی عکس مِرے ذہن پہ چھایا ہوا ہے
دل ہے سادہ کہ سمجھ بیٹھا ہے اس کو غمخوار
وہ جو اپنے ہی کسی کام سے آیا ہوا ہے
کہاں اے پردہ نشیں خُود کو چھُپایا ہوا ہے
تیرا دیوانہ تِرے شہر میں آیا ہوا ہے
تیری تصویر نے تسخیر کیا ہے دل کو
تیرا ہی عکس مِرے ذہن پہ چھایا ہوا ہے
دل ہے سادہ کہ سمجھ بیٹھا ہے اس کو غمخوار
وہ جو اپنے ہی کسی کام سے آیا ہوا ہے
عقل کی اِک نہ سنی عشق کو اُستاد کِیا
ہم نے لبیک کہا، دل نے جو اِرشاد کیا
اُس نے لیلیٰ کبھی ہیر اور کبھی شیریں بن کر
ہم کو مجنوں، کبھی رانجھا، کبھی فرہاد کیا
اِک شکاری کو تِرے غم نے بنایا قیدی
اِک پرندے کو تِرے عشق نے آزاد کِیا
آبِ رواں پسند ہے، یادِ گزشتگاں پسند
مجھ کو سمٹتے بادباں، لوٹتی کشتیاں پسند
شیرِیں بیاں ہو کوئی لاکھ، ہم کو کسی سے کیا غرض
ہم کو تِرے بیاں قبول، ہم کو تِری زباں پسند
ہم کو ہے عاجزی کی چاہ، اُن کو غرور کی طلب
ہم کو زمیں سے پیار ہے، اُن کو ہے آسماں پسند
حجاب میں حبیب ہے یہ عشق بھی عجیب ہے
کہ سامنے رقیب ہے یہ عشق بھی عجیب ہے
کبھی اسے بلاؤ تم،۔ کوئی غزل لکھاؤ تم
بہت بڑا ادیب ہے، یہ عشق بھی عجیب ہے
پڑا ہوا ازل سے ہے سراغِ دل کے پیچھے جو
یہی وہ عندلیب ہے، یہ عشق بھی عجیب ہے
مِرے بھی چند خواب ہیں
میں جانتا ہوں وہ پلٹ کے آئے گا نہیں
مگر اُسے پکارنا
اُسی کے خواب دیکھنا مجھے پسند ہے
مجھے دھنک کے سات رنگ
کبھی نہیں لُبھا سکے
اِسی دھنک کے درمیاں