Showing posts with label وکیل حیات. Show all posts
Showing posts with label وکیل حیات. Show all posts

Tuesday, 11 August 2026

کہاں اے پردہ نشیں خود کو چھپایا ہوا ہے

 کہاں اے پردہ نشیں خُود کو چھُپایا ہوا ہے

تیرا دیوانہ تِرے شہر میں آیا ہوا ہے

تیری تصویر نے تسخیر کیا ہے دل کو

تیرا ہی عکس مِرے ذہن پہ چھایا ہوا ہے

دل ہے سادہ کہ سمجھ بیٹھا ہے اس کو غمخوار

وہ جو اپنے ہی کسی کام سے آیا ہوا ہے

Friday, 9 January 2026

عقل کی اک نہ سنی عشق کو استاد کیا

 عقل کی اِک نہ سنی عشق کو اُستاد کِیا 

ہم نے لبیک کہا، دل نے جو اِرشاد کیا 

اُس نے لیلیٰ کبھی ہیر اور کبھی شیریں بن کر 

ہم کو مجنوں، کبھی رانجھا، کبھی فرہاد کیا 

اِک شکاری کو تِرے غم نے بنایا قیدی 

اِک پرندے کو تِرے عشق نے آزاد کِیا 

Tuesday, 19 August 2025

آب رواں پسند ہے یاد گزشتگاں پسند

 آبِ رواں پسند ہے، یادِ گزشتگاں پسند 

مجھ کو سمٹتے بادباں، لوٹتی کشتیاں پسند 

شیرِیں بیاں ہو کوئی لاکھ، ہم کو کسی سے کیا غرض 

ہم کو تِرے بیاں قبول، ہم کو تِری زباں پسند 

ہم کو ہے عاجزی کی چاہ، اُن کو غرور کی طلب 

ہم کو زمیں سے پیار ہے، اُن کو ہے آسماں پسند 

Tuesday, 12 August 2025

حجاب میں حبیب ہے یہ عشق بھی عجیب ہے

 حجاب میں حبیب ہے یہ عشق بھی عجیب ہے

کہ سامنے رقیب ہے یہ عشق بھی عجیب ہے

کبھی اسے بلاؤ تم،۔ کوئی غزل لکھاؤ تم

بہت بڑا ادیب ہے، یہ عشق بھی عجیب ہے

پڑا ہوا ازل سے ہے سراغِ دل کے پیچھے جو

یہی وہ عندلیب ہے، یہ عشق بھی عجیب ہے

Friday, 9 July 2021

مرے بھی چند خواب ہیں

مِرے بھی چند خواب ہیں


میں جانتا ہوں وہ پلٹ کے آئے گا نہیں

مگر اُسے پکارنا

اُسی کے خواب دیکھنا مجھے پسند ہے

مجھے دھنک کے سات رنگ

کبھی نہیں لُبھا سکے

اِسی دھنک کے درمیاں