کیا بتاؤں تجھے کہ کیا دکھ ہے
ہمنوا، اک عجیب سا دکھ ہے
ہر قدم حوصلے کی محتاجی
ہر قدم پر پڑا ہوا دکھ ہے
آ تجھے اپنا غم دکھاتا ہوں
دوسری رو میں تیسرا دکھ ہے
کیا بتاؤں تجھے کہ کیا دکھ ہے
ہمنوا، اک عجیب سا دکھ ہے
ہر قدم حوصلے کی محتاجی
ہر قدم پر پڑا ہوا دکھ ہے
آ تجھے اپنا غم دکھاتا ہوں
دوسری رو میں تیسرا دکھ ہے
لفظ آواز میں گونجے تو سمجھ آئے کچھ
جسم جذبات سے نکلے تو سمجھ آئے کچھ
گو کہ منزل پہ پہنچ پائے نہیں ہم لیکن
واپسی کے لیے رستے تو سمجھ آئے کچھ
تُو دراڑوں میں ہے یا ہیں یہ دراڑیں تجھ میں
آئینہ ٹوٹ کے بکھرے تو سمجھ آئے کچھ
جو ضرورت مجھے ابھی پڑی ہے
کیا تجھے بھی کبھی کبھی پڑی ہے
اس کی تصویر ہے مِرے گھر میں
ایک ہی چیز قیمتی پڑی ہے
اس کا سر کاٹ کے بھی کیا ملتا
جس کو دستار بیچنی پڑی ہے
تلخی کو اُس کے دل سے مٹاتا رہا ہوں میں
پتھر سے آئینے کو بچاتا رہا ہوں میں
ہاں رقص کر سکی نہ کبھی زندگی مِری
پر ڈُگڈگی کمال بجاتا رہا ہوں میں
کرتا رہا ہوں سب کی محبت کا اعتبار
سب پر یقیں کا بوجھ بڑھاتا رہا ہوں میں
دنیا کے چمک دار خسارے کی تمنا
ہے صبر و قناعت میں بھی سارے کی تمنا
دُشوار ہوئی ہم پہ محبت کی سہولت
پیڑوں کو بھُگتنی پڑی آرے کی تمنا
اندھا ہوں مزا لیتا ہوں ٹھوکر کا سنبھل کر
گرتا ہوں تو ہوتی ہے سہارے کی تمنا
ایسا پھنسا ہوا تھا نگاہوں کے داؤ میں
جل جل کے بجھ گیا میں کشش کے الاؤ میں
تیری فضا میں رہ کے توازن بنا رہا
ورنہ میں ٹکڑے ہو گیا ہوتا تناؤ میں
پاؤں زمیں نے کھینچ کے رکھے ہیں مستقل
اور سر بگڑ گیا ہے فلک کے کھچاؤ میں
نظامِ دل میں کہیں بے دِلی رکی ہوئی ہے
ہنسی سجائی گئی ہے خوشی رکی ہوئی ہے
ابھی بھی اس سے تعلق تو ہے مگر ایسا
ہوا چلی بھی کبھی تو لگی رکی ہوئی ہے
مٹے ہوئے ہیں خدوخال جھیل کے پھر بھی
کہیں کہیں پہ تو اب تک نمی رکی ہوئی ہے
کس رعونت سے کہہ رہے ہیں کیا
آپ جیسوں کے حوصلے ہیں کیا
دن میں دس بار دیکھتے ہو ہمیں
آئینے کی جگہ پڑے ہیں کیا
ڈوبتا جا رہا ہے دل میرا
اشک اندر کو چل پڑے ہیں کیا