Showing posts with label اجمل فرید. Show all posts
Showing posts with label اجمل فرید. Show all posts

Saturday, 17 July 2021

کیا بتاؤں تجھے کہ کیا دکھ ہے

 کیا بتاؤں تجھے کہ کیا دکھ ہے

ہمنوا، اک عجیب سا دکھ ہے

ہر قدم حوصلے کی محتاجی

ہر قدم پر پڑا ہوا دکھ ہے

آ تجھے اپنا غم دکھاتا ہوں

دوسری رو میں تیسرا دکھ ہے

Wednesday, 16 June 2021

لفظ آواز میں گونجے تو سمجھ آئے کچھ

 لفظ آواز میں گونجے تو سمجھ آئے کچھ

جسم جذبات سے نکلے تو سمجھ آئے کچھ

گو کہ منزل پہ پہنچ پائے نہیں ہم لیکن

واپسی کے لیے رستے تو سمجھ آئے کچھ

تُو دراڑوں میں ہے یا ہیں یہ دراڑیں تجھ میں

آئینہ ٹوٹ کے بکھرے تو سمجھ آئے کچھ

Monday, 14 June 2021

جو ضرورت مجھے ابھی پڑی ہے

جو ضرورت مجھے ابھی پڑی ہے

کیا تجھے بھی کبھی کبھی پڑی ہے

اس کی تصویر ہے مِرے گھر میں

ایک ہی چیز قیمتی پڑی ہے

اس کا سر کاٹ کے بھی کیا ملتا

جس کو دستار بیچنی پڑی ہے

Sunday, 6 June 2021

تلخی کو اس کے دل سے مٹاتا رہا ہوں میں

 تلخی کو اُس کے دل سے مٹاتا رہا ہوں میں

پتھر سے آئینے کو بچاتا رہا ہوں میں

ہاں رقص کر سکی نہ کبھی زندگی مِری

پر ڈُگڈگی کمال بجاتا رہا ہوں میں

کرتا رہا ہوں سب کی محبت کا اعتبار

سب پر یقیں کا بوجھ بڑھاتا رہا ہوں میں

Friday, 4 June 2021

دنیا کے چمکدار خسارے کی تمنا

 دنیا کے چمک دار خسارے کی تمنا

ہے صبر و قناعت میں بھی سارے کی تمنا

دُشوار ہوئی ہم پہ محبت کی سہولت

پیڑوں کو بھُگتنی پڑی آرے کی تمنا

اندھا ہوں مزا لیتا ہوں ٹھوکر کا سنبھل کر

گرتا ہوں تو ہوتی ہے سہارے کی تمنا

Tuesday, 1 December 2020

ایسا پھنسا ہوا تھا نگاہوں کے داؤ میں

 ایسا پھنسا ہوا تھا نگاہوں کے داؤ میں

جل جل کے بجھ گیا میں کشش کے الاؤ میں

تیری فضا میں رہ کے توازن بنا رہا

ورنہ میں ٹکڑے ہو گیا ہوتا تناؤ میں

پاؤں زمیں نے کھینچ کے رکھے ہیں مستقل

اور سر بگڑ گیا ہے فلک کے کھچاؤ میں

Sunday, 22 November 2020

نظام دل میں کہیں بے دلی رکی ہوئی ہے

 نظامِ دل میں کہیں بے دِلی رکی ہوئی ہے

ہنسی سجائی گئی ہے خوشی رکی ہوئی ہے

ابھی بھی اس سے تعلق تو ہے مگر ایسا

ہوا چلی بھی کبھی تو لگی رکی ہوئی ہے

مٹے ہوئے ہیں خدوخال جھیل کے پھر بھی

کہیں کہیں پہ تو اب تک نمی رکی ہوئی ہے

Thursday, 12 November 2020

کس رعونت سے کہہ رہے ہیں کیا

 کس رعونت سے کہہ رہے ہیں کیا

آپ جیسوں کے حوصلے ہیں کیا

دن میں دس بار دیکھتے ہو ہمیں

آئینے کی جگہ پڑے ہیں کیا

ڈوبتا جا رہا ہے دل میرا

اشک اندر کو چل پڑے ہیں کیا