Thursday, 12 November 2020

کس رعونت سے کہہ رہے ہیں کیا

 کس رعونت سے کہہ رہے ہیں کیا

آپ جیسوں کے حوصلے ہیں کیا

دن میں دس بار دیکھتے ہو ہمیں

آئینے کی جگہ پڑے ہیں کیا

ڈوبتا جا رہا ہے دل میرا

اشک اندر کو چل پڑے ہیں کیا

یہ ستارے زمین پر کیسے

آپ کے ہاتھ سے گرے ہیں کیا

روشنی بٹ گئی شعاعوں میں

ہاتھ چہرے کے سامنے ہیں کیا

رات دن یاد آ رہا ہوں میں

بھول کر یاد کر رہے ہیں کیا

زخم پر زخم لگ گیا کیسے

دوسری بار گر گئے ہیں کیا

دھڑکنیں تک سُنائی دیتی ہیں

لوگ اندر سے کھوکھلے ہیں کیا

زندگی سب سے قیمتی شے ہے

پھر یہ پانی کے بلبلے ہیں کیا

یاد کرنے سے بھی نہ یاد آئے

یوں کوئی بات بھولتے ہیں کیا


اجمل فرید

No comments:

Post a Comment