نوحۂ زمیں
وبائیں چاٹ گئیں کتنے ہم سفر میرے
کبھی خبر ہی نہ لی تُو نے چارہ گر میرے
اور اب کسی کو مرے زخم سے علاقہ نہیں
کہ روتے روتے تھکے ہیں یہ نوحہ گر میرے
یہ انبساط کا نغمہ نہ گنگنائیں اب
بِچھی ہوئی ہے صفِ ماتم آج گھر میرے
چلے گئے ہیں جو واپس نہیں کبھی آتے
ہمیشہ راستہ دیکھیں گے بام و در میرے
میں آبیاری رہی کرتی اک زمانے تک
کہاں گئے ہیں گل و برگ اور ثمر میرے
عنبرین خان
No comments:
Post a Comment