روٹھ بیٹھے ہیں سبھی مجھ کو منانے والے
میں تو رسی ہوں میرے بل نہیں جانے والے
اتنی وحشت ہے کہ ہر بات پہ آنسو نکلے
مر گئے ہیں میرے احباب ہنسانے والے
پھر جوانی کے چوراہے پہ آ بیٹھا ہوں
یاد آئیں ہیں مرے دوست پرانے والے
میں نے ان کو بھی جزیروں پہ بھٹکتے دیکھا
خود بھی گمراہ ہیں سبھی راہ دکھانے والے
اس کی مرضی ہے مرا ہاتھ چھڑا لے جس سے
یار بد مست ہیں یہ میرے فسانے والے
تم بھی سو لو کوئی خواب سُہانا دیکھو
سو گئے ہیں سبھی لوگ سلانے والے
یہ جو ہنستے ہیں تو کچھ سوچ کے ہنستے ہیں منیب
خود بھی روتے ہیں انہیں لوگ رلانے والے
منیب مغل
No comments:
Post a Comment