Thursday, 12 November 2020

روٹھ بیٹھے ہیں سبھی مجھ کو منانے والے

 روٹھ بیٹھے ہیں سبھی مجھ کو منانے والے

میں تو رسی ہوں میرے بل نہیں جانے والے

اتنی وحشت ہے کہ ہر بات پہ آنسو نکلے

مر گئے ہیں میرے احباب ہنسانے والے

پھر جوانی کے چوراہے پہ آ بیٹھا ہوں

یاد آئیں ہیں مرے دوست پرانے والے

میں نے ان کو بھی جزیروں پہ بھٹکتے دیکھا

خود بھی گمراہ ہیں سبھی راہ دکھانے والے

اس کی مرضی ہے مرا ہاتھ چھڑا لے جس سے

یار بد مست ہیں یہ میرے فسانے والے

تم بھی سو لو کوئی خواب سُہانا دیکھو

سو گئے ہیں سبھی لوگ سلانے والے

یہ جو ہنستے ہیں تو کچھ سوچ کے ہنستے ہیں منیب

خود بھی روتے ہیں انہیں لوگ رلانے والے


منیب مغل

No comments:

Post a Comment