Thursday, 12 November 2020

یہ جو دو چار ترے پیار میں آ بیٹھے ہیں

 یہ جو دو چار تِرے پیار میں آ بیٹھے ہیں

گُل کے سودائی ہیں، گُلزار میں آ بیٹھے ہیں

بیچ اپنوں کے ہی کرتی ہے سیاست دنیا

ہم ہی ناداں ہیں جو اغیار میں آ بیٹھے ہیں

گُل سے مطلب نہیں، نالہ ہی خدا ہے ہم کو

چھوڑ گُلزار، سخن زار میں آ بیٹھے ہیں

تُو ترنم، تُو تغزل، تُو سخن بخش مِرا

تیرے نغمات جگر تار میں آ بیٹھے ہیں

ہم کو نفرت ہے چھپائے ہوئے چہروں سے منیب

چھوڑ مسجد، بھرے بازار میں آ بیٹھے ہیں


ابن منیب
نوید رزاق بٹ

No comments:

Post a Comment