Thursday, 12 November 2020

عمر بھر چلتے رہے ہم وقت کی تلوار پر

 عمر بھر چلتے رہے ہم وقت کی تلوار پر

پرورش پائی ہے اپنے خون ہی کی دھار پر

چاہنے والے کی اک غلطی سے برہم ہو گیا

فخر تھا کتنا اسے خود پیار کے معیار پر

رات گہری میری تنہائی کا ساگر اور پھر

تیری یادوں کے سلگتے دیپ ہر منجدھار پر

شام آئی اور سب شاخوں کی گلیاں سو گئیں

موت کا سایہ سا منڈلانے لگا اشجار پر

خلوت شب میں یہ اکثر سوچتا کیوں ہوں کہ چاند

نور کا بوسہ ہے گویا رات کے رخسار پر

سالِ نو آتا ہے تو محفوظ کر لیتا ہوں میں

کچھ پرانے سے کلینڈر ذہن کی دیوار پر

زندگی آزاد پہلے یوں کبھی تنہا نہ تھی

آدمی بہتا تھا یوں ہی وقت کی رفتار پر


آزاد گلاٹی

No comments:

Post a Comment