Thursday, 12 November 2020

تم بات کرو وہ دھیان نہ دے

 تم بات کرو وہ دھیان نہ دے

جو سچے پیار کو مان نہ دے

تم سب سے خاص کہو اس کو

وہ تم کو سب سے عام لکھے

وہ دن کو رات کہے تو تم

سورج کو چاند بنا ڈالو

تم سانس بھی اس کی یاد میں لو

اور اس کو کوئی احساس نہ ہو

تم جیون دھارا بن جاؤ

پر اس کو تمہاری پیاس نہ ہو

جب تم پر یہ سب کھُل جائے

اور دل رو رو کر دُھل جائے

مایوس نہیں ہونا بالکل

بس ایک جگہ کسی کونے میں

تم دِیا 🪔جلانا اور کہنا

اس بے حد اجلی صورت کو

تم دھیان میں لانا اور کہنا

اے یار میں تیری خوشبو کو

ان سانسوں کا ایمان کہوں

تُو جس کو بھی چاہے، چاہے

میں تجھ کو اپنی جان کہوں

تجھے حق ہے تُو جو چاہے کر

بھلے اپنی دِید کے درشن سے

مِرے دل کو تُو آباد نہ کر

تجھے دیکھنا ہے برباد مجھے

تجھے کس نے کہا برباد نہ کر

بس ایک گزارش ہے اپنی

بس تجھ سے ایک تمنا ہے

مجھے بے شک مٹی کر دے تُو

مجھے فارغ وقت کی یاد نہ کر

مجھے فارغ وقت کی یاد نہ کر


علی زریون

No comments:

Post a Comment