تم بات کرو وہ دھیان نہ دے
جو سچے پیار کو مان نہ دے
تم سب سے خاص کہو اس کو
وہ تم کو سب سے عام لکھے
وہ دن کو رات کہے تو تم
سورج کو چاند بنا ڈالو
تم سانس بھی اس کی یاد میں لو
اور اس کو کوئی احساس نہ ہو
تم جیون دھارا بن جاؤ
پر اس کو تمہاری پیاس نہ ہو
جب تم پر یہ سب کھُل جائے
اور دل رو رو کر دُھل جائے
مایوس نہیں ہونا بالکل
بس ایک جگہ کسی کونے میں
تم دِیا 🪔جلانا اور کہنا
اس بے حد اجلی صورت کو
تم دھیان میں لانا اور کہنا
اے یار میں تیری خوشبو کو
ان سانسوں کا ایمان کہوں
تُو جس کو بھی چاہے، چاہے
میں تجھ کو اپنی جان کہوں
تجھے حق ہے تُو جو چاہے کر
بھلے اپنی دِید کے درشن سے
مِرے دل کو تُو آباد نہ کر
تجھے دیکھنا ہے برباد مجھے
تجھے کس نے کہا برباد نہ کر
بس ایک گزارش ہے اپنی
بس تجھ سے ایک تمنا ہے
مجھے بے شک مٹی کر دے تُو
مجھے فارغ وقت کی یاد نہ کر
مجھے فارغ وقت کی یاد نہ کر
علی زریون
No comments:
Post a Comment