ہماری وحشت لگے ٹھکانے کسی بہانے
کوئی تو آئے ہمیں منانے، کسی بہانے
کبھی کراؤں گا سیر تجھ کو میں شہرِ دل کی
کبھی دکھاؤں گا سرد خانے، کسی بہانے
صفِ حریفاں میں چند پیارے بھی آ گئے ہیں
سو باندھنے ہیں غلط نشانے، کسی بہانے
اگر اسی رو میں وقت بہتا رہا تو شاہا
صحیفے بن جائیں گے فسانے، کسی بہانے
لگا ہی دینی ہیں قدغنیں بے وجہ ہنسی پر
اداس بستی کے دیوتا نے، کسی بہانے
یہ لوگ اک عمر سے اسی میں لگے ہوئے ہیں
کہ زخم تازہ کریں پرانے، کسی بہانے
توقیر احمد
No comments:
Post a Comment