Showing posts with label اشفاق غوری. Show all posts
Showing posts with label اشفاق غوری. Show all posts

Sunday, 18 August 2024

ذکر سرکار سے چہرے پہ خوشی آتی ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ذکرِ سرکارؐ سے چہرے پہ خوشی آتی ہے

منہ میں گویا کوئی مصری کی ڈلی آتی ہے

رت جگا روز ہی ہوتا ہے مدینے کے لیے 

نیند امیدِ زیارت پہ کبھی آتی ہے

رشک کرتی ہیں مِرے خواب نگر پر آنکھیں

خواب میں جوں ہی مدینے کی گلی آتی ہے

Thursday, 1 August 2024

ہے کون رونق چمن حسن بھی ہیں حسین بھی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ہے کون رونقِ چمن، حسنؑ بھی ہیں حسینؑ بھی 

گُلاب اور نسترن، حسنؑ بھی ہیں حسینؑ بھی

سخاوتوں کی داستاں زباں زدِ عوام ہے

کرم کے بحرِ موجزن، حسنؑ بھی ہیں حسینؑ بھی

ملی ہیں جن کو فخرِ کائنات کی شباہتیں

مِرے نبیؐ کا بانکپن، حسنؑ بھی ہیں حسینؑ بھی

Saturday, 13 July 2024

سر سناں پر قاریٔ قرآں بدن سجدے میں ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


خامۂ اشفاق ہے مبہوت فن سجدے میں ہے

بارگاہِ نعت میں حرفِ سخن سجدے میں ہے

شاہِ دو عالمؐ کے جسمِ مشک زا کے سامنے

عود و عنبر منفعل مُشکِ ختن سجدے میں ہے

شام کو تھی چاندنی کوئے نبیؐ میں سر بہ خم

صبح دم خورشید کی پہلی کرن سجدے میں ہے

Friday, 12 July 2024

شبیہ شاہ انبیاء ہے خوبرو حسین ہے

  عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


شبیہِ شاہِ انبیاء ہے خوبرو حسینؑ ہے

سخی، متین، باوقار، نرم خو حسینؑ ہے

قرارِ قلب و جان دو جہاں کے تاجدار ہیں

قرارِ قلب و جاں کے دل کی آرزو حسینؑ ہے

جو کھیلتا تھا تاجدارِ انبیاء کی پیٹھ پر

وہ ذی وقار لاڈلا لہو لہو حسینؑ ہے