عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ذکرِ سرکارؐ سے چہرے پہ خوشی آتی ہے
منہ میں گویا کوئی مصری کی ڈلی آتی ہے
رت جگا روز ہی ہوتا ہے مدینے کے لیے
نیند امیدِ زیارت پہ کبھی آتی ہے
رشک کرتی ہیں مِرے خواب نگر پر آنکھیں
خواب میں جوں ہی مدینے کی گلی آتی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ذکرِ سرکارؐ سے چہرے پہ خوشی آتی ہے
منہ میں گویا کوئی مصری کی ڈلی آتی ہے
رت جگا روز ہی ہوتا ہے مدینے کے لیے
نیند امیدِ زیارت پہ کبھی آتی ہے
رشک کرتی ہیں مِرے خواب نگر پر آنکھیں
خواب میں جوں ہی مدینے کی گلی آتی ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہے کون رونقِ چمن، حسنؑ بھی ہیں حسینؑ بھی
گُلاب اور نسترن، حسنؑ بھی ہیں حسینؑ بھی
سخاوتوں کی داستاں زباں زدِ عوام ہے
کرم کے بحرِ موجزن، حسنؑ بھی ہیں حسینؑ بھی
ملی ہیں جن کو فخرِ کائنات کی شباہتیں
مِرے نبیؐ کا بانکپن، حسنؑ بھی ہیں حسینؑ بھی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
خامۂ اشفاق ہے مبہوت فن سجدے میں ہے
بارگاہِ نعت میں حرفِ سخن سجدے میں ہے
شاہِ دو عالمؐ کے جسمِ مشک زا کے سامنے
عود و عنبر منفعل مُشکِ ختن سجدے میں ہے
شام کو تھی چاندنی کوئے نبیؐ میں سر بہ خم
صبح دم خورشید کی پہلی کرن سجدے میں ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
شبیہِ شاہِ انبیاء ہے خوبرو حسینؑ ہے
سخی، متین، باوقار، نرم خو حسینؑ ہے
قرارِ قلب و جان دو جہاں کے تاجدار ہیں
قرارِ قلب و جاں کے دل کی آرزو حسینؑ ہے
جو کھیلتا تھا تاجدارِ انبیاء کی پیٹھ پر
وہ ذی وقار لاڈلا لہو لہو حسینؑ ہے