میرا مزاج دعاؤں جیسا
وہ شخص پتھر کے خداؤں جیسا
مرادیں کیسے بر آتی
وہ غرو پرور اناؤں جیسا
میں ہوں وہ ساون
جو جم کے برسے
وہ ہے آوارہ گھٹاؤں جیسا
میں شبنم کی مانند ہوں شفاف
وہ جس کو چھوئے
اسی کا ہو جائے
ہے مزاج اس کا وباؤں جیسا
میں جس کو سمجھتی رہی
انعام رب کا
وہ بن گیا صاحب سزاؤں جیسا
میں کرتی رہی محبت عبادت جیسی
وہ اظہار چاہے برملاؤں جیسا
میں روح کا اس کو طبیب مانوں
اور وہ بے اثر دواؤں جیسا
نازیہ رشید تارڑ
No comments:
Post a Comment