Friday, 31 July 2026

میرا مزاج دعاؤں جیس

 میرا مزاج دعاؤں جیسا

وہ شخص پتھر کے خداؤں جیسا

مرادیں کیسے بر آتی

وہ غرو پرور اناؤں جیسا

میں ہوں وہ ساون 

جو جم کے برسے

وہ ہے آوارہ گھٹاؤں جیسا 

میں شبنم کی مانند ہوں شفاف

وہ جس کو چھوئے 

اسی کا ہو جائے

ہے مزاج اس کا وباؤں جیسا

میں جس کو سمجھتی رہی 

 انعام رب کا 

وہ بن گیا صاحب سزاؤں جیسا

میں کرتی رہی محبت عبادت جیسی

وہ اظہار چاہے برملاؤں جیسا

میں روح کا اس کو طبیب مانوں

اور وہ بے اثر دواؤں جیسا


نازیہ رشید تارڑ

No comments:

Post a Comment