Thursday, 23 July 2026

آنکھ میں خواب بے حجاب آئے

 آنکھ میں خواب بے حجاب آئے

اس سے کہہ دو کہ بے نقاب آئے

لا زمانے لہو کو گردش میں

تاکہ چہروں پہ پھر شباب آئے

شامِ محشر ہو جب نگاہوں میں

کیا سوال آئے، کیا جواب آئے

بھیڑ میں کہہ رہی ہے سرگوشی

"آج تم یاد بے حساب آئے"

بزمِ دل میں تم اس طرح آؤ

جیسے تاروں میں ماہتاب آئے

بے لباسی ہو جب نگاہوں میں

بے لباسی پہ کیا حجاب آئے

شامِ مغرب میں اعظمی اکثر

شامِ ارضِ دکن کے خواب آئے


یوسف اعظمی

No comments:

Post a Comment