آنکھ میں خواب بے حجاب آئے
اس سے کہہ دو کہ بے نقاب آئے
لا زمانے لہو کو گردش میں
تاکہ چہروں پہ پھر شباب آئے
شامِ محشر ہو جب نگاہوں میں
کیا سوال آئے، کیا جواب آئے
بھیڑ میں کہہ رہی ہے سرگوشی
"آج تم یاد بے حساب آئے"
بزمِ دل میں تم اس طرح آؤ
جیسے تاروں میں ماہتاب آئے
بے لباسی ہو جب نگاہوں میں
بے لباسی پہ کیا حجاب آئے
شامِ مغرب میں اعظمی اکثر
شامِ ارضِ دکن کے خواب آئے
یوسف اعظمی
No comments:
Post a Comment