Sunday, 26 July 2026

اب یہاں زیست کے آثار نہیں دیکھو گے

 اب یہاں زیست کے آثار نہیں دیکھو گے

تم مِرے شہر میں دِیوار نہیں دیکھو گے

حالتِ جنگ میں بیٹھا ہوں قلمدان لیے

اب مِرے ہاتھ میں تلوار نہیں دیکھو گے

جن درختوں کی طبیعت میں ذرا خم نہ ہو

اُن درختوں کو ثمر بار نہیں دیکھو گے

وہ اُداسی کا یہ عالم کہ بھرے شہر میں تم

اک محبت کا طرفدار نہیں دیکھو گے

دولتِ اشک لیے پھرتے ہیں آنکھوں میں نعیم

ایسی قیمت کے خریدار نہیں دیکھو گے


نعیم اللہ انمول

No comments:

Post a Comment