Showing posts with label تلوک چند. Show all posts
Showing posts with label تلوک چند. Show all posts

Sunday, 1 January 2017

ہم دل جلوں کو اے بت نامہرباں نہ چھیڑ

ہم دل جلوں کو اے بتِ نامہرباں نہ چھیڑ
بھڑکے گا اور شعلۂ سوزِ نہاں، نہ چھیڑ
صیاد اور خزاں کے ستم اس پہ کم نہیں
تُو عندلیبِ زار کو، اے باغباں! نہ چھیڑ
ہے، ہے، کسی کی بزم مجھے یاد آ گئی
واعظ! خدا کے واسطے، ذکرِ جناں نہ چھیڑ

طائر دِل کے لیے زلف کا جال اچھا ہے

طائرِ دِل کے لیے زلف کا جال اچھا ہے
حیلہ سازی کے لیے دانۂ خال اچھا ہے
دل کے طالب نظر آتے ہیں حسِین، ہر جانب 
اس کے لاکھوں ہیں خریدار، کہ مال اچھا ہے
تابِ نظارہ نہیں گو مجھے خود بھی، لیکن 
رشک کہتا ہے، کہ ایسا ہی جمال اچھا ہے

Saturday, 31 December 2016

نظر اٹھا دل ناداں یہ جستجو کیا ہے

نظر اٹھا دلِ ناداں یہ جستجو کیا ہے
اسی کا جلوہ تو ہے اور روبرو کیا ہے 
کسی کی ایک نظر نے بتا دیا مجھ کو
سرورِ بادہ بے ساغر و سبو کیا ہے
قفس عذاب سہی، بلبلِ اسیر!، مگر
ذرا یہ سوچ کہ وہ دامِ رنگ و بو کیا ہے 

کیا سنائیں کسی کو حال اپنا

کیا سنائیں کسی کو حال اپنا
اپنے دل میں رہے ملال اپنا
شرمسار جواب ہو نہ سکا
بسکہ خوددار تھا سوال اپنا
کس نے دیکھا نہیں ہے بعد عروج
سایۂ چرخ میں زوال اپنا

ستم کوئی نیا ایجاد کرنا

ستم کوئی نیا ایجاد کرنا
تو مجھ کو بھی مِری جاں یاد کرنا
قیامت ہے دل نالاں قیامت
تِرا رہ رہ کے یہ فریاد کرنا
چلو اب لطف ہی کو آزماؤ 
تمہیں آتا نہیں بے داد کرنا

Wednesday, 28 December 2016

رہی فراق میں بھی شکل رو برو تیری

رہی فراق میں بھی شکل روبرو تیری
شبہیہ کھینچی تصور نے ہوبہو تیری
معاف رکھ جو ہے گُلہائے تر سے پیار مجھے
کہ اِن میں رنگ تِرا کچھ ہے، کچھ ہے بو تیری
نسیمِ صبح کا جھونکا نفس نفس تیرا
رہے گی سوختہ جانوں کو آرزو تیری

تن خاکی رہے گا ہمرہ انوار جاں کب تک

تنِ خاکی رہے گا ہم رہِ انوارِ جاں کب تک
چلے گی کارواں کے ساتھ گردِ کارواں کب تک
اِدھر بھی ایک جھونکا اے ہوائے فصلِ آزادی
رہوں زنجیرئ اندیشۂ سود و زیاں کب تک
نسیمِ فصلِ گُل آئی نہ ان بارہ مہینوں میں
رہے گی باغ میں اے باغباں دورِ خزاں کب تک

ہجراں کی شب جو درد کے مارے اداس ہیں

ہجراں کی شب جو درد کے مارے اداس ہیں
ان کی نظر میں چاند ستارے اداس ہیں
آنکھیں وہ پھر گئیں کہ زمانہ الٹ گیا
جیتے تھے جو نظر کے سہارے اداس ہیں
کیا ہیر اب کہیں ہے نہ رانجھے کا جانشیں
کیوں اے چناب! تیرے کنارے اداس ہیں

Saturday, 8 October 2016

اس کا گلہ نہیں کہ دعا بے اثر گئی

اس کا گِلہ نہیں کہ دعا بے اثر گئی
اک آہ کی تھی وہ بھی کہیں جا کے مر گئی
اے ہم نفس! نہ پوچھ جوانی کا ماجرا
موجِ نسیم تھی، اِدھر آئی، اُدھر گئی 
دامِ غمِ حیات میں الجھا گئی امید
ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ احسان کر گئی

نقش بر سطح آب ہے دنیا

نقش بر سطح آب ہے دنیا
بلکہ موجِ سراب ہے دنیا
ایک حالت پہ رہ نہیں سکتی
پیکرِ انقلاب ہے دنیا 
شبِ غفلت ہے زندگی اپنی 
اس میں نیرنگِ خواب ہے دنیا