چاندنی رات میں اس نے مجھے تنہا رکھا
چاند سے باتیں ہوئیں مجھ کو ترستا رکھا
اپنے غم خانے کو یادوں سے سجایا ہم نے
نیند سے پھر نہ کبھی خواب کا رشتہ رکھا
وہ جو کہتا تھا کبھی ساتھ نہ چھوڑے گا مِرا
اس نے سورج کی طرح مجھ کو بھی جلتا رکھا
چاندنی رات میں اس نے مجھے تنہا رکھا
چاند سے باتیں ہوئیں مجھ کو ترستا رکھا
اپنے غم خانے کو یادوں سے سجایا ہم نے
نیند سے پھر نہ کبھی خواب کا رشتہ رکھا
وہ جو کہتا تھا کبھی ساتھ نہ چھوڑے گا مِرا
اس نے سورج کی طرح مجھ کو بھی جلتا رکھا
خانۂ دل میں ترے خواب سے آباد کیا
اک نیا شہر جسے عشق کی بنیاد کیا
میں اسی ایک تعلق میں جیے جا رہی ہوں
ہر قدم تو نے محبت سے ہمزاد کیا
کس پہ غفلت کا مقدمہ میں چلاؤ آخر
سچ تو یہ مجھے ہجر نے برباد کیا
خاموشیوں میں رہ کے سوالوں میں آ گئے
ہم بے زبان کتنے حوالوں میں آ گئے
ترکِ تعلق کا سوچا ہے جب کبھی
کچھ اشک ابھر کے آنکھ کے نالوں میں آ گئے
دھیمے سروں میں چھیڑ کے نغمے وصال کے
مدت کے بعد تم بھی خیالوں میں آ گئے
خانۂ دل میں تِرے خواب سے آباد کیا
اک نیا شہر جسے عشق کی بنیاد کیا
میں اسی ایک تعلق میں جیے جا رہی ہوں
ہر قدم تُو نے محبت سے ہمزاد کیا
کس پہ غفلت کا مقدمہ میں چلاؤ آخر
سچ تو یہ مجھے ہجر نے برباد کیا
چاندنی رات میں اس نے مجھے تنہا رکھا
چاند سے باتیں ہوئیں مجھ کو ترستا رکھا
اپنے غم خانے کو یادوں سے سجایا ہم نے
نیند سے پھر نہ کبھی خواب کا رشتہ رکھا
وہ جو کہتا تھا کبھی ساتھ نہ چھوڑے گا مِرا
اس نے سورج کی طرح مجھ کو بھی جلتا رکھا