Showing posts with label ترنم شبیر. Show all posts
Showing posts with label ترنم شبیر. Show all posts

Saturday, 24 July 2021

چاندنی رات میں اس نے مجھے تنہا رکھا

 چاندنی رات میں اس نے مجھے تنہا رکھا

چاند سے باتیں ہوئیں مجھ کو ترستا رکھا

اپنے غم خانے کو یادوں سے سجایا ہم نے

نیند سے پھر نہ کبھی خواب کا رشتہ رکھا

وہ جو کہتا تھا کبھی ساتھ نہ چھوڑے گا مِرا

اس نے سورج کی طرح مجھ کو بھی جلتا رکھا

Wednesday, 21 July 2021

خانۂ دل میں ترے خواب سے آباد کیا

 خانۂ دل میں ترے خواب سے آباد کیا

اک نیا شہر جسے عشق کی بنیاد کیا

میں اسی ایک تعلق میں جیے جا رہی ہوں

ہر قدم تو نے محبت سے ہمزاد کیا

کس پہ غفلت کا مقدمہ میں چلاؤ آخر

سچ تو یہ مجھے ہجر نے برباد کیا

Tuesday, 20 July 2021

خاموشیوں میں رہ کے سوالوں میں آ گئے

 خاموشیوں میں رہ کے سوالوں میں آ گئے

ہم بے زبان کتنے حوالوں میں آ گئے

ترکِ تعلق کا سوچا ہے جب کبھی

کچھ اشک ابھر کے آنکھ کے نالوں میں آ گئے

دھیمے سروں میں چھیڑ کے نغمے وصال کے

مدت کے بعد تم بھی خیالوں میں آ گئے

Sunday, 18 July 2021

خانۂ دل میں ترے خواب سے آباد کیا

 خانۂ دل میں تِرے خواب سے آباد کیا

اک نیا شہر جسے عشق کی بنیاد کیا

میں اسی ایک تعلق میں جیے جا رہی ہوں

ہر قدم تُو نے محبت سے ہمزاد کیا

کس پہ غفلت کا مقدمہ میں چلاؤ آخر

سچ تو یہ مجھے ہجر نے برباد کیا

Monday, 31 May 2021

چاندنی رات میں اس نے مجھے تنہا رکھا

 چاندنی رات میں اس نے مجھے تنہا رکھا

‎چاند سے باتیں ہوئیں مجھ کو ترستا رکھا

‎اپنے غم خانے کو یادوں سے سجایا ہم نے

‎نیند سے پھر نہ کبھی خواب کا رشتہ رکھا

‎وہ جو کہتا تھا کبھی ساتھ نہ چھوڑے گا مِرا

‎اس نے سورج کی طرح مجھ کو بھی جلتا رکھا