Saturday, 24 July 2021

چاندنی رات میں اس نے مجھے تنہا رکھا

 چاندنی رات میں اس نے مجھے تنہا رکھا

چاند سے باتیں ہوئیں مجھ کو ترستا رکھا

اپنے غم خانے کو یادوں سے سجایا ہم نے

نیند سے پھر نہ کبھی خواب کا رشتہ رکھا

وہ جو کہتا تھا کبھی ساتھ نہ چھوڑے گا مِرا

اس نے سورج کی طرح مجھ کو بھی جلتا رکھا

تلخ سوچیں ہیں کہ ہر بار بھٹک جاتی ہیں

اس محبت نے بھی ہم کو نہ کہیں کا رکھا

اے دلِ خستہ مانگوں بھی تو کیا تیرے لیے

تُو نے خود ہی تو زمانے سے جدا سا رکھا

وہ جو موسم کی طرح خود کو بدل لیتا تھا

مجھ سے رشتہ بھی کچھ اس نے ہوا سا رکھا

پھر مِرے شہر کی فٹ پاتھ پہ تصویر بنی

ماں کی آغوش میں بیٹے کا ہے لاشہ رکھا

اب تو قسمت سے شکایت نہ زمانے سے گلہ

دکھ تو یہ ہے کہ مجھے تُو نے ہی رُسوا رکھا

دے دے خیرات محبت کی کبھی تُو بھی مجھے

سامنے تیرے مِرے دل کا ہے کاسہ رکھا

جب بھی تنقید کسی پر کبھی کرنا چاہی

سامنے دل کے خود اپنا بھی سراپا رکھا

ماہ و انجم کی ضیا بھی ہو مقدر اس کا

زیست میں جس نے مِری آج اندھیرا رکھا

شہرِ دل میں ہی بسایا ہے نشیمن اپنا

گھر کے نقشے میں تِری یاد کا نقشہ رکھا

صحن گلشن میں نئے پھول کھلا کرتے ہیں

اک تِرا نام ترنم نے جو غنچہ رکھا


ترنم شبیر

No comments:

Post a Comment