Saturday, 24 July 2021

کیسا خیال آیا تھا کیسا بنا لیا

 کیسا خیال آیا تھا کیسا بنا لیا

پتھر تراش کر اُسے شیشہ بنا لیا

اک جبر کے پہاڑ کا تھا سامنا مجھے

میں نے قلم کی نوک کو تیشہ بنا لیا

دیکھی جو میں نے روشنی بیٹی کی آنکھ میں

دستار اپنی کاٹ کے بستہ بنا لیا

اک لمحہ انتظار کا گزرا نہ تھا ابھی

کاغذ پہ میں نے وقت کا چہرہ بنا لیا

تعمیر میری تشنۂ تکمیل ہے ابھی

اس نے مجھے بنانا تھا جتنا بنا لیا

تھا کوہِ سخت پیشِ نظر پھر بھی امتیاز

رستہ بنانے والے نے رستہ بنا لیا


امتیازالحق

No comments:

Post a Comment