Saturday, 24 July 2021

کیا تم نے کوئی ایسی جوگن دیکھی ہے

 جوگن


کیا تم نے کوئی ایسی جوگن دیکھی ہے

جو چاند رات میں اپنے روپ کی ڈسی ہے

جو رہ وفا میں بیٹھی ہر آنے والے سے

ایک ہی بات پوچھتی ہے

کیا تم نے میرے سوگ کا چہرہ دیکھا ہے

جس رستے سے تم آتے ہو

یہ واپس مُڑ کے کدھر کو جاتا ہے

دیکھو میرے پیروں کو جکڑا ہے مٹی کی پازیبوں نے

دیکھو میرے روپ کو کیسی خاک نے چاٹا ہے

کیا تم نے میرے روگ کا چہرہ دیکھا ہے

کیا تم نے کوئی ایسی جوگن دیکھی ہے

جس کی آنکھوں میں بیرن صحرا ہے

جس کے ہونٹوں پر پیاس سمندر ہے

جو رہِ وفا میں بیٹھی

ہر آنے والے سے ایک ہی بات پوچھتی ہے

کیا تم نے میرے جوگ کا چہرہ دیکھا ہے

جس رستے سے تم آتے ہو

یہ واپس مُڑ کے کدھر کو جاتا ہے


فاریہ حمید

No comments:

Post a Comment