جوگن
کیا تم نے کوئی ایسی جوگن دیکھی ہے
جو چاند رات میں اپنے روپ کی ڈسی ہے
جو رہ وفا میں بیٹھی ہر آنے والے سے
ایک ہی بات پوچھتی ہے
کیا تم نے میرے سوگ کا چہرہ دیکھا ہے
جس رستے سے تم آتے ہو
یہ واپس مُڑ کے کدھر کو جاتا ہے
دیکھو میرے پیروں کو جکڑا ہے مٹی کی پازیبوں نے
دیکھو میرے روپ کو کیسی خاک نے چاٹا ہے
کیا تم نے میرے روگ کا چہرہ دیکھا ہے
کیا تم نے کوئی ایسی جوگن دیکھی ہے
جس کی آنکھوں میں بیرن صحرا ہے
جس کے ہونٹوں پر پیاس سمندر ہے
جو رہِ وفا میں بیٹھی
ہر آنے والے سے ایک ہی بات پوچھتی ہے
کیا تم نے میرے جوگ کا چہرہ دیکھا ہے
جس رستے سے تم آتے ہو
یہ واپس مُڑ کے کدھر کو جاتا ہے
فاریہ حمید
No comments:
Post a Comment