اسے کہنا ستمبر جا رہا ہے
شامیں سہانی لگنے لگی ہیں
دھوپ کی تپش ٹھنڈی ہو رہی ہے
پرندوں کی ہجرت پر تول رہی ہے
دل بے وجہ اداس رہنے لگا ہے
ہر ہر آہٹ پہ چونکتا ہے
اسے کہنا ستمبر جا رہا ہے
شامیں سہانی لگنے لگی ہیں
دھوپ کی تپش ٹھنڈی ہو رہی ہے
پرندوں کی ہجرت پر تول رہی ہے
دل بے وجہ اداس رہنے لگا ہے
ہر ہر آہٹ پہ چونکتا ہے
گانگن
کل شام میں سو رہی تھی
آنکھوں کی نمی گال بھگو رہی تھی
اچانک بہت دن بعد اس کا فون تھا
آواز میں بعد کرب گزرنے کا سکون تھا
کہا اس نے؛ بہت تکلیف میں ہوں
کتنی سادہ سی اپنی کہانی ہے
بس بہتے پانی کی روانی ہے
داستان ذرا طول ہے، طولانی ہے
کچھ کہہ دی ہے، کچھ سنانی ہے
وہ نہیں مِلا تھا تو اور بات تھی
مِل گیا ہے تو بھی خلش انجانی ہے
طلسم
کچی بل کھاتی دور تلک جاتی پگڈنڈی
کھجوروں کے جھُنڈ میں اُبھرتا گول چاند
پورے چاند کی پھیلی روپہلی چاندنی
خُنک رازدار خاموش سی
پتھروں پر چُپکے چُپکے سرسراتی، چونکاتی ہوا
ڈرپوک لڑکی
ایک دن وہ کہنے لگی
میری حسرت ہے
ایک کپ چائے
آپ کے ساتھ پینے کی
آپ کے خیال میں جینے کی