Showing posts with label زارا مظہر. Show all posts
Showing posts with label زارا مظہر. Show all posts

Sunday, 13 June 2021

شامیں سہانی لگنے لگی ہیں

 اسے کہنا ستمبر جا رہا ہے


شامیں سہانی لگنے لگی ہیں

دھوپ کی تپش ٹھنڈی ہو رہی ہے

پرندوں کی ہجرت پر تول رہی ہے

دل بے وجہ اداس رہنے لگا ہے

ہر ہر آہٹ پہ چونکتا ہے

Wednesday, 9 June 2021

گانگن؛ وہ لوٹ آئے گا

 گانگن


کل شام میں سو رہی تھی

آنکھوں کی نمی گال بھگو رہی تھی

اچانک بہت دن بعد اس کا فون تھا

آواز میں بعد کرب گزرنے کا سکون تھا

کہا اس نے؛ بہت تکلیف میں ہوں

کتنی سادہ سی اپنی کہانی ہے

 کتنی سادہ سی اپنی کہانی ہے

بس بہتے پانی کی روانی ہے

داستان ذرا طول ہے، طولانی ہے

کچھ کہہ دی ہے، کچھ سنانی ہے

وہ نہیں مِلا تھا تو اور بات تھی

مِل گیا ہے تو بھی خلش انجانی ہے

Tuesday, 8 June 2021

کچی بل کھاتی دور تلک جاتی پگڈنڈی

 طلسم


کچی بل کھاتی دور تلک جاتی پگڈنڈی

کھجوروں کے جھُنڈ میں اُبھرتا گول چاند

پورے چاند کی پھیلی روپہلی چاندنی

خُنک رازدار خاموش سی

پتھروں پر چُپکے چُپکے سرسراتی، چونکاتی ہوا

ڈرپوک لڑکی ایک دن وہ کہنے لگی

 ڈرپوک لڑکی


ایک دن وہ کہنے لگی

میری حسرت ہے

ایک کپ چائے

آپ کے ساتھ پینے کی

آپ کے خیال میں جینے کی