اسے کہنا ستمبر جا رہا ہے
شامیں سہانی لگنے لگی ہیں
دھوپ کی تپش ٹھنڈی ہو رہی ہے
پرندوں کی ہجرت پر تول رہی ہے
دل بے وجہ اداس رہنے لگا ہے
ہر ہر آہٹ پہ چونکتا ہے
انگوروں کے پتے لال ہو کے جھڑنے لگے ہیں
بادل، بارش، کالی گھٹا شرارت چھوڑ چکی ہیں
ہوا میں دھوپ کی آمیزش اور ساون کی نمی ہے
گلاب تھک رہے ہیں
رانی، راجہ بھی آنکھیں موند چکے
موسمی پودے کیاریوں میں ڈھ رہے ہیں
شاید نئی پنیریاں لگانے کا موسم آ گیا ہے
کہ ستمبر جا رہا ہے
زارا مظہر
No comments:
Post a Comment