Sunday, 13 June 2021

شامیں سہانی لگنے لگی ہیں

 اسے کہنا ستمبر جا رہا ہے


شامیں سہانی لگنے لگی ہیں

دھوپ کی تپش ٹھنڈی ہو رہی ہے

پرندوں کی ہجرت پر تول رہی ہے

دل بے وجہ اداس رہنے لگا ہے

ہر ہر آہٹ پہ چونکتا ہے

انگوروں کے پتے لال ہو کے جھڑنے لگے ہیں

بادل، بارش، کالی گھٹا شرارت چھوڑ چکی ہیں

ہوا میں دھوپ کی آمیزش اور ساون کی نمی ہے

گلاب تھک رہے ہیں

رانی، راجہ بھی آنکھیں موند چکے

موسمی پودے کیاریوں میں ڈھ رہے ہیں

شاید نئی پنیریاں لگانے کا موسم آ گیا ہے

کہ ستمبر جا رہا ہے


زارا مظہر

No comments:

Post a Comment