عجب میکانکی سی زندگانی ہے
میں سارا دن مشینوں
اور لوگوں کے مشینی رکھ رکھاؤ سے اُلجھتا ہوں
میں دب کر رہ گیا ہوں فائلوں کے بوجھ کے نیچے
مِری چیخیں حلق میں دب گئی ہیں
میری نظمیں دُور بہتی آبشاروں کے کنارے
عجب میکانکی سی زندگانی ہے
میں سارا دن مشینوں
اور لوگوں کے مشینی رکھ رکھاؤ سے اُلجھتا ہوں
میں دب کر رہ گیا ہوں فائلوں کے بوجھ کے نیچے
مِری چیخیں حلق میں دب گئی ہیں
میری نظمیں دُور بہتی آبشاروں کے کنارے
ریت کی چادر اوڑھ کے سوئیں صحرا میں
دن بھر اپنے خواب جو بوئیں صحرا میں
دریا ہم کو ساحل پہ لا پھینکے گا
ہم تم اپنا آپ ڈبوئیں صحرا میں
ہجر کی جگمگ جگمگ کرتی تیغ میں ہم
سانسوں کا اک ہار پروئیں صحرا میں
مِری پلکوں پہ اک دریا رُکا ہے
مگر، صحرا کی بولی بولتا ہے
مِرے جیون کے اِس پہلو میں شب ہے
اور اس پہلو سے سُورج جھانکتا ہے
میں تجھ کو اپنا سب کچھ مانتا ہوں
مِرے بارے میں تُو کیا سوچتا ہے؟
دلِ بے تاب مٹی ہو رہے ہیں
ہمارے خواب مٹی ہو رہے ہیں
تم اپنے جگنوؤں کو رو رہے ہو
یہاں مہتاب مٹی ہو رہے ہیں
اُداسی ناگ بن کر ڈس رہی ہے
جو تھے شاداب مٹی ہو رہے ہیں