Showing posts with label حسن سیف. Show all posts
Showing posts with label حسن سیف. Show all posts

Sunday, 14 June 2026

عجب میکانکی سی زندگانی ہے

 عجب میکانکی سی زندگانی ہے

میں سارا دن مشینوں

اور لوگوں کے مشینی رکھ رکھاؤ سے اُلجھتا ہوں

میں دب کر رہ گیا ہوں فائلوں کے بوجھ کے نیچے

مِری چیخیں حلق میں دب گئی ہیں

میری نظمیں دُور بہتی آبشاروں کے کنارے

Wednesday, 29 October 2025

ریت کی چادر اوڑھ کے سوئیں صحرا میں

 ریت کی چادر اوڑھ کے سوئیں صحرا میں

دن بھر اپنے خواب جو بوئیں صحرا میں

دریا ہم کو ساحل پہ لا پھینکے گا

ہم تم اپنا آپ ڈبوئیں صحرا میں

ہجر کی جگمگ جگمگ کرتی تیغ میں ہم

سانسوں کا اک ہار پروئیں صحرا میں

Friday, 28 June 2024

مری پلکوں پہ اک دریا رکا ہے

 مِری پلکوں پہ اک دریا رُکا ہے

مگر، صحرا کی بولی بولتا ہے

مِرے جیون کے اِس پہلو میں شب ہے

اور اس پہلو سے سُورج جھانکتا ہے

میں تجھ کو اپنا سب کچھ مانتا ہوں

مِرے بارے میں تُو کیا سوچتا ہے؟

Monday, 24 June 2024

دل بے تاب مٹی ہو رہے ہیں

 دلِ بے تاب مٹی ہو رہے ہیں 

ہمارے خواب مٹی ہو رہے ہیں 

تم اپنے جگنوؤں کو رو رہے ہو

یہاں مہتاب مٹی ہو رہے ہیں 

اُداسی ناگ بن کر ڈس رہی ہے 

جو تھے شاداب مٹی ہو رہے ہیں