Showing posts with label ممتاز اطہر. Show all posts
Showing posts with label ممتاز اطہر. Show all posts

Friday, 18 February 2022

جلی حرفوں فصیلوں پر لکھا کچھ اور کہتا ہے

 جلی حرفوں فصیلوں پر لکھا کچھ اور کہتا ہے

مگر اندر سے شہرِ بے صدا کچھ اور کہتا ہے

وہ منظر ہے کہ آنکھوں پر کسی صورت نہیں کُھلتا

ہوا کچھ اور کہتی ہے دِیا کچھ اور کہتا ہے

فضا شفاف ہے اور پر کھلے ہیں فاختاؤں کے

مگر یہ خاک و خوں کا معرکہ کچھ اور کہتا ہے

Saturday, 20 November 2021

محو حیرت ہیں کہ تعمیر کی حسرت کیا ہے

 محوِ حیرت ہیں کہ تعمیر کی حسرت کیا ہے

آسماں ہے تو کسی چھت کی ضرورت کیا ہے

ہم نے رکھے ہیں سرِ شام دیے مٹی میں

ہم سے پوچھے کوئی، مٹی کی محبت کیا ہے

آئینہ ہونے کی خواہش بھی تو خود ہی کی تھی

اب اگر ٹوٹ کے بکھرے ہیں تو حیرت کیا ہے

Friday, 19 November 2021

دل میں کیا بات کھٹکنے لگی ہے

 دل میں کیا بات کھٹکنے لگی ہے

وقت کی سانس اٹکنے لگی ہے

میں نے رکھا ہے دریچے میں دیا

اور ہوا راہ بھٹکنے لگی ہے

عشق تھا پہلے پڑاؤ پہ ابھی

پھر نٸی آگ دہکنے لگی ہے

Tuesday, 16 November 2021

مجھے شکل دے کے تمام کر کف کوزہ گر

 مجھے شکل دے کے تمام کر کفِ کوزہ گر

کبھی کو بہ کو مجھے عام کر کف کوزہ گر

کسی صبح مجھ کو وجود دے مِرے روبرو

کسی شام مجھ سے کلام کر کف کوزہ گر

مجھے آنچ دے کسی دوپہر کے فراغ میں

کسی رات مجھ میں قیام کر کف کوزہ گر

کب وہ مجھ تک کھلے میں آتا ہے

 کب وہ مجھ تک کھلے میں آتا ہے

خواب سا، جاگتے میں آتا ہے

اس کو تصویر کر رہا ہوں میں

جو بھی کچھ دیکھنے میں آتا ہے

اس پہ دروازے جیسا کھلتا ہوں

جو مِرے راستے میں آتا ہے

Monday, 15 November 2021

ہرِ خواب و خبر میں ہم بھی ہیں

 ہرِ خواب و خبر میں ہم بھی ہیں 

اک سخن کے اثر میں ہم بھی ہیں

اے کہانی! ہمارے ساتھ بھی چل  

دیکھ، اگلے سفر میں ہم بھی ہیں

تم نے دیکھی نہیں جڑیں اس کی  

سبز ہوتے شجر میں ہم بھی ہیں

زخم کھائے ہوئے دلگیر ادھر آئے ہیں

 زخم کھائے ہوئے دلگیر اِدھر آئے ہیں

میر کے بعد بھی کچھ میر ادھر آئے ہیں

سلسلہ ٹوٹا نہیں شہر کی خوش بختی کا

کیا سے کیا صاحبِ توقیر ادھر آئے ہیں

خواب دیکھا کہ ستارے سرِ صحرا اترے

پوچھنے خواب کی تعبیر ادھر آئے ہیں

Wednesday, 2 June 2021

لہو میں اپنی مٹی کا اثر تقسیم ہوتا ہے

 لہو میں اپنی مٹی کا اثر تقسیم ہوتا ہے

زمیں تقسیم ہونے سے بشر تقسیم ہوتا ہے

پرندے چہچہانا بھُولتے جاتے ہیں اس ڈر سے

ہواؤں میں جو نامعلوم ڈر تقسیم ہوتا ہے

یوں اپنے بھائیوں کے درمیاں سہما سا رہتا ہوں

میں کوئی بات کرتا ہوں تو گھر تقسیم ہوتا ہے