جلی حرفوں فصیلوں پر لکھا کچھ اور کہتا ہے
مگر اندر سے شہرِ بے صدا کچھ اور کہتا ہے
وہ منظر ہے کہ آنکھوں پر کسی صورت نہیں کُھلتا
ہوا کچھ اور کہتی ہے دِیا کچھ اور کہتا ہے
فضا شفاف ہے اور پر کھلے ہیں فاختاؤں کے
مگر یہ خاک و خوں کا معرکہ کچھ اور کہتا ہے
جلی حرفوں فصیلوں پر لکھا کچھ اور کہتا ہے
مگر اندر سے شہرِ بے صدا کچھ اور کہتا ہے
وہ منظر ہے کہ آنکھوں پر کسی صورت نہیں کُھلتا
ہوا کچھ اور کہتی ہے دِیا کچھ اور کہتا ہے
فضا شفاف ہے اور پر کھلے ہیں فاختاؤں کے
مگر یہ خاک و خوں کا معرکہ کچھ اور کہتا ہے
محوِ حیرت ہیں کہ تعمیر کی حسرت کیا ہے
آسماں ہے تو کسی چھت کی ضرورت کیا ہے
ہم نے رکھے ہیں سرِ شام دیے مٹی میں
ہم سے پوچھے کوئی، مٹی کی محبت کیا ہے
آئینہ ہونے کی خواہش بھی تو خود ہی کی تھی
اب اگر ٹوٹ کے بکھرے ہیں تو حیرت کیا ہے
دل میں کیا بات کھٹکنے لگی ہے
وقت کی سانس اٹکنے لگی ہے
میں نے رکھا ہے دریچے میں دیا
اور ہوا راہ بھٹکنے لگی ہے
عشق تھا پہلے پڑاؤ پہ ابھی
پھر نٸی آگ دہکنے لگی ہے
مجھے شکل دے کے تمام کر کفِ کوزہ گر
کبھی کو بہ کو مجھے عام کر کف کوزہ گر
کسی صبح مجھ کو وجود دے مِرے روبرو
کسی شام مجھ سے کلام کر کف کوزہ گر
مجھے آنچ دے کسی دوپہر کے فراغ میں
کسی رات مجھ میں قیام کر کف کوزہ گر
کب وہ مجھ تک کھلے میں آتا ہے
خواب سا، جاگتے میں آتا ہے
اس کو تصویر کر رہا ہوں میں
جو بھی کچھ دیکھنے میں آتا ہے
اس پہ دروازے جیسا کھلتا ہوں
جو مِرے راستے میں آتا ہے
ہرِ خواب و خبر میں ہم بھی ہیں
اک سخن کے اثر میں ہم بھی ہیں
اے کہانی! ہمارے ساتھ بھی چل
دیکھ، اگلے سفر میں ہم بھی ہیں
تم نے دیکھی نہیں جڑیں اس کی
سبز ہوتے شجر میں ہم بھی ہیں
زخم کھائے ہوئے دلگیر اِدھر آئے ہیں
میر کے بعد بھی کچھ میر ادھر آئے ہیں
سلسلہ ٹوٹا نہیں شہر کی خوش بختی کا
کیا سے کیا صاحبِ توقیر ادھر آئے ہیں
خواب دیکھا کہ ستارے سرِ صحرا اترے
پوچھنے خواب کی تعبیر ادھر آئے ہیں
لہو میں اپنی مٹی کا اثر تقسیم ہوتا ہے
زمیں تقسیم ہونے سے بشر تقسیم ہوتا ہے
پرندے چہچہانا بھُولتے جاتے ہیں اس ڈر سے
ہواؤں میں جو نامعلوم ڈر تقسیم ہوتا ہے
یوں اپنے بھائیوں کے درمیاں سہما سا رہتا ہوں
میں کوئی بات کرتا ہوں تو گھر تقسیم ہوتا ہے