لہو میں اپنی مٹی کا اثر تقسیم ہوتا ہے
زمیں تقسیم ہونے سے بشر تقسیم ہوتا ہے
پرندے چہچہانا بھُولتے جاتے ہیں اس ڈر سے
ہواؤں میں جو نامعلوم ڈر تقسیم ہوتا ہے
یوں اپنے بھائیوں کے درمیاں سہما سا رہتا ہوں
میں کوئی بات کرتا ہوں تو گھر تقسیم ہوتا ہے
الگ ہوں تو فقط آنگن میں دیواریں نہیں اٹھتیں
جو سینچا تھا مِری ماں نے شجر تقسیم ہوتا ہے
شجر تقسیم ہونے سے فقط سایہ نہیں کٹتا
رُتیں تقسیم ہوتی ہیں، ثمر تقسیم ہوتا ہے
اسی کے سامنے دامن کشا رہتا ہوں برسوں سے
وہ جس کے اذن سے اطہر ہُنر تقسیم ہوتا ہے
ممتاز اطہر
No comments:
Post a Comment