Wednesday, 2 June 2021

لہو میں اپنی مٹی کا اثر تقسیم ہوتا ہے

 لہو میں اپنی مٹی کا اثر تقسیم ہوتا ہے

زمیں تقسیم ہونے سے بشر تقسیم ہوتا ہے

پرندے چہچہانا بھُولتے جاتے ہیں اس ڈر سے

ہواؤں میں جو نامعلوم ڈر تقسیم ہوتا ہے

یوں اپنے بھائیوں کے درمیاں سہما سا رہتا ہوں

میں کوئی بات کرتا ہوں تو گھر تقسیم ہوتا ہے

الگ ہوں تو فقط آنگن میں دیواریں نہیں اٹھتیں

جو سینچا تھا مِری ماں نے شجر تقسیم ہوتا ہے

شجر تقسیم ہونے سے فقط سایہ نہیں کٹتا

رُتیں تقسیم ہوتی ہیں، ثمر تقسیم ہوتا ہے

اسی کے سامنے دامن کشا رہتا ہوں برسوں سے

وہ جس کے اذن سے اطہر ہُنر تقسیم ہوتا ہے


ممتاز اطہر

No comments:

Post a Comment