جرم سب ان کے سر گئے شاید
دن ہمارے سنور گئے شاید
سہمی سہمی ہوئی نظر توبہ
اپنے سائے سے ڈر گئے شاید
حُسن کا جن کے خُوب چرچا تھا
وہ حسینوں پہ مر گئے شاید
آج محفل میں کیوں اندھیرا ہے
ان کے گیسُو بکھر گئے شاید
پڑھ لیا کرتے تھے جو چہروں کو
اب وہ اہلِ نظر گئے شاید
اُڑ رہے تھے جو کل بلندی پر
آسماں سے اُتر گئے شاید
راستے ہی میں تھک کے بیٹھ گئے
اب وہ عزمِ سفر گئے شاید
ناز تھا جن پہ اہلِ دُنیا کو
لوگ ایسے گُزر گئے شاید
اپنی شہرت کے واسطے صادق
مجھ کو بدنام کر گئے شاید
خلیل صادق
No comments:
Post a Comment