سُوجھی تدبیر نہ کچھ رنج و بلا سے پہلے
زندگی چھوڑ گئی ساتھ قضا سے پہلے
یہ سُلگتا ہوا افلاس کا چڑھتا سُورج
مار ڈالے نہ کہیں گرم ہوا سے پہلے
آسماں پر بھی پہنچنا کوئی دُشوار نہیں
چاہیے دل میں تڑپ حرفِ دعا سے پہلے
سُوجھی تدبیر نہ کچھ رنج و بلا سے پہلے
زندگی چھوڑ گئی ساتھ قضا سے پہلے
یہ سُلگتا ہوا افلاس کا چڑھتا سُورج
مار ڈالے نہ کہیں گرم ہوا سے پہلے
آسماں پر بھی پہنچنا کوئی دُشوار نہیں
چاہیے دل میں تڑپ حرفِ دعا سے پہلے
لگی ہے گشت کرنے یہ خبر آہستہ آہستہ
کمر کسنے لگا ہے فتنہ گر آہستہ آہستہ
کتر ڈالو اسے جتنا بھی تم سونے کی قینچی سے
پرندے کا نکل آتا ہے پر آہستہ آہستہ
ڈبو کر منچلی کشتی کو موجوں نے کہا ہنس کر
کیا جاتا ہے پانی میں سفر آہستہ آہستہ
اب کوئی بات بڑھانے کی ضرورت نہ رہی
حال دل ان کو سنانے کی ضرورت نہ رہی
مسئلے ہو گئے بے رخ ہی سیاست کے شکار
کوئی آواز اٹھانے کی ضرورت نہ رہی
قافلے درد کے خود دل سے گزر جاتے ہیں
راستے ان کو دکھانے کی ضرورت نہ رہی
بازارِ محبت میں شرمندہ شرافت ہے
پھُولوں کی نمائش ہے خُوشبو کی تجارت ہے
ہنستے ہوئے گُلشن کو پل بھر میں رُلا ڈالے
آوارہ ہواؤں میں ایسی بھی مہارت ہے
تعمیر کا جذبہ بھی، تخریب کا نقشہ بھی
یہ شوقِ شہادت ہے، یا ذوقِ بغاوت ہے