Showing posts with label اثر نظامی. Show all posts
Showing posts with label اثر نظامی. Show all posts

Thursday, 18 September 2025

لگی ہے گشت کرنے یہ خبر آہستہ آہستہ

 لگی ہے گشت کرنے یہ خبر آہستہ آہستہ

کمر کسنے لگا ہے فتنہ گر آہستہ آہستہ

کتر ڈالو اسے جتنا بھی تم سونے کی قینچی سے

پرندے کا نکل آتا ہے پر آہستہ آہستہ

ڈبو کر منچلی کشتی کو موجوں نے کہا ہنس کر

کیا جاتا ہے پانی میں سفر آہستہ آہستہ

Wednesday, 1 January 2025

اب کوئی بات بڑھانے کی ضرورت نہ رہی

 اب کوئی بات بڑھانے کی ضرورت نہ رہی

حال دل ان کو سنانے کی ضرورت نہ رہی

مسئلے ہو گئے بے رخ ہی سیاست کے شکار

کوئی آواز اٹھانے کی ضرورت نہ رہی

قافلے درد کے خود دل سے گزر جاتے ہیں

راستے ان کو دکھانے کی ضرورت نہ رہی

Tuesday, 31 December 2024

بازار محبت میں شرمندہ شرافت ہے

 بازارِ محبت میں شرمندہ شرافت ہے

پھُولوں کی نمائش ہے خُوشبو کی تجارت ہے

ہنستے ہوئے گُلشن کو پل بھر میں رُلا ڈالے

آوارہ ہواؤں میں ایسی بھی مہارت ہے

تعمیر کا جذبہ بھی، تخریب کا نقشہ بھی

یہ شوقِ شہادت ہے، یا ذوقِ بغاوت ہے