کس بات پہ ہنستے ہو؟
تم لوگ جو ہنستے ہو
کس بات پہ ہنستے ہو؟
مجھ کو بھی تو بتلاؤ
میں بھی تو ذرا ہنس لوں
دیکھو تو مِری صورت
ماتھے پہ تناؤ ہیں
کس بات پہ ہنستے ہو؟
تم لوگ جو ہنستے ہو
کس بات پہ ہنستے ہو؟
مجھ کو بھی تو بتلاؤ
میں بھی تو ذرا ہنس لوں
دیکھو تو مِری صورت
ماتھے پہ تناؤ ہیں
ابھی داستان طویل ہے
ابھی داستان طویل ہے
ابھی خواب دیکھے گا اور بھی
ابھی مات کھائے گا بارہا
ابھی سر اٹھانا ہے پھر تجھے
ابھی سر کٹائے گا بارہا
یہ سنسار گر وہ کشادہ بناتا
یہ سنسار گر ٭انفنٹ سے
وہ چند اک جریبیں کشادہ بناتا
تو شاید ہمیں ایک محفوظ سا ٭٭وینیو مل ہی جاتا
جہاں تم مجھے بے دھڑک ہو کے ملتی
بجا کہہ رہی ہو
نظم سلجھائے گا کون
آپ گھبرائیں نہیں
لوگ میری نظم کی تفہیم تک آئے تو کیا
یہ پسِ مفہوم کوئی نقش پا سکتے نہیں
آپ تک ہرگز بھی آ سکتے نہیں
انگبیں کے ذائقے سے پھول تک آیا کوئی؟
لاحاصلی
اصولِ فطرت سے منحرف میں
یہ جبر کا آسمان خود سے اتار بھی دوں
اتار دوں گا، تو کیا کروں گا
اگر مثلث کو توڑنے کی سبیل بھی ہو
جو توڑ ہی دوں، تو کیا کروں گا
میرا درماں دوائے صبوری نہیں
میں مغرور ہوں
یہ حقیقت ہے میں سخت مغرور ہوں
جانتا ہوں تکبّر بہت نا مناسب ہے لیکن
مجھے اس پہ ہرگز ندامت
خجالت وغیرہ نہیں ہے
ہم اکیلے ملیں گے
معذرت چاہتا ہوں
تجھے میں کسی دوسرے دن اکیلا ملوں گا
میں خلوت پسند اور بجھیل آدمی ہوں
سو بالائی بالائی باتیں نہیں کر سکوں گا
سمندر کے لیول سے لازم گروں گا