Showing posts with label سرمد سروش. Show all posts
Showing posts with label سرمد سروش. Show all posts

Saturday, 20 April 2024

تم لوگ جو ہنستے ہو کس بات پہ ہنستے ہو

 کس بات پہ ہنستے ہو؟


تم لوگ جو ہنستے ہو

کس بات پہ ہنستے ہو؟

مجھ کو بھی تو بتلاؤ

میں بھی تو ذرا ہنس لوں

دیکھو تو مِری صورت

ماتھے پہ تناؤ ہیں

Thursday, 17 November 2022

ابھی داستان طویل ہے ابھی خواب دیکھے گا اور بھی

 ابھی داستان طویل ہے


ابھی داستان طویل ہے

ابھی خواب دیکھے گا اور بھی

ابھی مات کھائے گا بارہا

ابھی سر اٹھانا ہے پھر تجھے

ابھی سر کٹائے گا بارہا

Monday, 3 October 2022

یہ سنسار گر وہ کشادہ بناتا

 یہ سنسار گر وہ کشادہ بناتا


یہ سنسار گر ٭انفنٹ سے

وہ چند اک جریبیں کشادہ بناتا

تو شاید ہمیں ایک محفوظ سا ٭٭وینیو مل ہی جاتا

جہاں تم مجھے بے دھڑک ہو کے ملتی

بجا کہہ رہی ہو

Monday, 27 December 2021

آپ تک آئے گا کون نظم سلجھائے گا کون

نظم سلجھائے گا کون


آپ گھبرائیں نہیں

لوگ میری نظم کی تفہیم تک آئے تو کیا

یہ پسِ مفہوم کوئی نقش پا سکتے نہیں

آپ تک ہرگز بھی آ سکتے نہیں

انگبیں کے ذائقے سے پھول تک آیا کوئی؟

Wednesday, 14 July 2021

اصول فطرت سے منحرف میں

لاحاصلی


اصولِ فطرت سے منحرف میں

یہ جبر کا آسمان خود سے اتار بھی دوں

اتار دوں گا، تو کیا کروں گا

اگر مثلث کو توڑنے کی سبیل بھی ہو

جو توڑ ہی دوں، تو کیا کروں گا

Sunday, 4 October 2020

یہ حقیقت ہے میں سخت مغرور ہوں

میرا درماں دوائے صبوری نہیں


میں مغرور ہوں

یہ حقیقت ہے میں سخت مغرور ہوں

جانتا ہوں تکبّر بہت نا مناسب ہے لیکن

مجھے اس پہ ہرگز ندامت

خجالت وغیرہ نہیں ہے

Monday, 14 September 2020

تجھے میں کسی دوسرے دن اکیلا ملوں گا

ہم اکیلے ملیں گے


معذرت چاہتا ہوں

تجھے میں کسی دوسرے دن اکیلا ملوں گا

میں خلوت پسند اور بجھیل آدمی ہوں

سو بالائی بالائی باتیں نہیں کر سکوں گا

سمندر کے لیول سے لازم گروں گا