Wednesday, 14 July 2021

اصول فطرت سے منحرف میں

لاحاصلی


اصولِ فطرت سے منحرف میں

یہ جبر کا آسمان خود سے اتار بھی دوں

اتار دوں گا، تو کیا کروں گا

اگر مثلث کو توڑنے کی سبیل بھی ہو

جو توڑ ہی دوں، تو کیا کروں گا

نہیں من و تو کا یہ فسانہ

کہیں نہیں میں یہ کوئی وہ ہے

بدن مِرا ہے، نہ جان اپنی

یہ درد کیوں، اضطراب کیا ہے

یہ کارِ بیگارِ غیر ہے سب

نہیں کروں گا، نہیں کروں گا

نہیں کروں گا، تو کیا کروں گا

یہ کون عورت ہے کس کا گھر ہے

یہاں پہنچنے میں 

کیوں جوانی گزار دی تھی

یہ ان گنت سیڑھیاں اگر اب

اُتر گیا بھی، تو کیا کروں گا

اُتر نہ پایا، تو کیا کروں گا

خدا سے کہنا کہ 

حرص کی لو کو تیز کر دے

کسی مآلِ مہیب تر سے مجھے ڈرا دے

میں صحنِ مسجد کی بے کرانی 

عبورکرنے پہ مستعد ہوں

حریمِ کعبہ کو چھوڑ دوں گا

یہ چھوڑ دوں گا، تو کیا کروں گا

بہت ضروری نہیں ہے جینا

میں جی رہا ہوں، سو جی رہا ہوں

نہ منتظر ہوں کہ موت آئے

جو آ رہے گی تو مر رہوں گا

نہ بھی مرا میں، تو کیا کروں گا

جو مر گیا میں، تو کیا کروں گا

کہاں چلا جا رہا ہوں سرمد

میں کارواں کی ردیف کیوں ہوں

کہیں پہنچتی نہیں ہے شاید

یہ راہ مصدر سے جا ملے گی

کہیں نہ پہنچا تو کیا کروں گا

پہنچ بھی جاؤں، تو کیا کروں گا


سرمد سروش

No comments:

Post a Comment