Showing posts with label آسی فائقی. Show all posts
Showing posts with label آسی فائقی. Show all posts

Sunday, 28 April 2024

برسوں کوئی ہمارے لئے جسم و جاں رہا

 برسوں کوئی ہمارے لیے جسم و جاں رہا 

لیکن وہ اب فریب کا عالم کہاں رہا

ایسے بھی راستوں سے گزرنا پڑا کہ بس

وہ بد گماں رہے، کبھی میں بد گماں رہا

حالات نے مٹا دئیے ماضی کے سب نقوش

اک نام تھا جو مٹ کے بھی وِرد زباں رہا

Wednesday, 13 December 2023

اس پہ کیا گزرے گی وقت مرگ اندازہ لگا

 اس پہ کیا گزرے گی وقتِ مرگ اندازہ لگا

مُنتشر ہستی کا اپنی جس کو شیرازہ لگا

اولیاء اللہ کی چوکھٹ کے بھی آداب ہیں

سر اُٹھا کر جو بھی آیا اس کو دروازہ لگا

نُور کی چادر تنی ہے یوں فضائے دہر پر

جیسے تارے توڑنے کو دست خمیازہ لگا

Wednesday, 22 November 2023

خاک صحرا میں اڑاتی ہے یہ دیوانی ہوا

 خاک صحرا میں اُڑاتی ہے یہ دیوانی ہوا

اور بہاروں میں کرے گی چاک دامانی ہوا

پیڑ اُکھڑے، گھر گِرے، آندھی چلی، چھپّر اُڑے

چل پڑی جس وقت آبادی میں دیوانی ہوا

گرمیوں میں مُضطرب تھے لوگ پانی کے لیے

بادلوں کو کر گئی برسات میں پانی ہوا

Wednesday, 12 October 2022

پرانے لوگ نئے کاروبار دیتے ہیں

 پرانے لوگ نئے کاروبار دیتے ہیں 

خزاں خرید کے فصلِ بہار دیتے ہیں 

ضرور ان کو محبت سے واسطہ ہو گا 

جو رنج و غم کے عوض ہم کو پیار دیتے ہیں 

شبِ وصال کی لذت انہیں نصیب ہوئی 

جو انتظار کی گھڑیاں گزار دیتے ہیں 

Sunday, 16 May 2021

اس شوخ سے ملتے ہی ہوئی اپنی نظر تیز

 اس شوخ سے ملتے ہی ہوئی اپنی نظر تیز

ہے مہر درخشاں کی شعاعوں کا اثر تیز

وہ پیڑ جو تیزاب سے سیراب ہوا تھا

اس پیڑ کا ہونے لگا ہر ایک ثمر تیز

وہ منزل مقصود پہ پہنچے گا یقیناً

جو راہ میں چلتا رہے بے خوف و خطر تیز