برسوں کوئی ہمارے لیے جسم و جاں رہا
لیکن وہ اب فریب کا عالم کہاں رہا
ایسے بھی راستوں سے گزرنا پڑا کہ بس
وہ بد گماں رہے، کبھی میں بد گماں رہا
حالات نے مٹا دئیے ماضی کے سب نقوش
اک نام تھا جو مٹ کے بھی وِرد زباں رہا
برسوں کوئی ہمارے لیے جسم و جاں رہا
لیکن وہ اب فریب کا عالم کہاں رہا
ایسے بھی راستوں سے گزرنا پڑا کہ بس
وہ بد گماں رہے، کبھی میں بد گماں رہا
حالات نے مٹا دئیے ماضی کے سب نقوش
اک نام تھا جو مٹ کے بھی وِرد زباں رہا
اس پہ کیا گزرے گی وقتِ مرگ اندازہ لگا
مُنتشر ہستی کا اپنی جس کو شیرازہ لگا
اولیاء اللہ کی چوکھٹ کے بھی آداب ہیں
سر اُٹھا کر جو بھی آیا اس کو دروازہ لگا
نُور کی چادر تنی ہے یوں فضائے دہر پر
جیسے تارے توڑنے کو دست خمیازہ لگا
خاک صحرا میں اُڑاتی ہے یہ دیوانی ہوا
اور بہاروں میں کرے گی چاک دامانی ہوا
پیڑ اُکھڑے، گھر گِرے، آندھی چلی، چھپّر اُڑے
چل پڑی جس وقت آبادی میں دیوانی ہوا
گرمیوں میں مُضطرب تھے لوگ پانی کے لیے
بادلوں کو کر گئی برسات میں پانی ہوا
پرانے لوگ نئے کاروبار دیتے ہیں
خزاں خرید کے فصلِ بہار دیتے ہیں
ضرور ان کو محبت سے واسطہ ہو گا
جو رنج و غم کے عوض ہم کو پیار دیتے ہیں
شبِ وصال کی لذت انہیں نصیب ہوئی
جو انتظار کی گھڑیاں گزار دیتے ہیں
اس شوخ سے ملتے ہی ہوئی اپنی نظر تیز
ہے مہر درخشاں کی شعاعوں کا اثر تیز
وہ پیڑ جو تیزاب سے سیراب ہوا تھا
اس پیڑ کا ہونے لگا ہر ایک ثمر تیز
وہ منزل مقصود پہ پہنچے گا یقیناً
جو راہ میں چلتا رہے بے خوف و خطر تیز