Wednesday, 12 October 2022

پرانے لوگ نئے کاروبار دیتے ہیں

 پرانے لوگ نئے کاروبار دیتے ہیں 

خزاں خرید کے فصلِ بہار دیتے ہیں 

ضرور ان کو محبت سے واسطہ ہو گا 

جو رنج و غم کے عوض ہم کو پیار دیتے ہیں 

شبِ وصال کی لذت انہیں نصیب ہوئی 

جو انتظار کی گھڑیاں گزار دیتے ہیں 

ہمارے اشک محبت میں قیمتی ٹھہرے 

غم حیات کی قسمت سنوار دیتے ہیں 

ملن کی رُت پہ بشر کیا درخت اور پودے 

سب اپنی اپنی قبائیں اتار دیتے ہیں 

ہماری جان کی قیمت چکا رہے ہیں وہ 

ملا کے خاک میں مشتِ غبار دیتے ہیں 

ہم اپنے آپ میں خود با وقار ہیں عاصی

جو بے وقار ہیں اپنا وقار دیتے ہیں


آسی فائقی

عاصی فائقی

No comments:

Post a Comment