Showing posts with label جلیل نظامی. Show all posts
Showing posts with label جلیل نظامی. Show all posts

Sunday, 21 March 2021

سخن کی داد پائیں گے اسی بیداد سے جا کر

سخن کی داد پائیں گے اسی بیداد سے جا کر 

شکایت کر رہا ہے جو مِری نقاد سے جا کر 

عمارت ظلم کی ہر چند پہنچے چرخ ہفتم تک 

اسے ملنا پڑے گا ایک دن بنیاد سے جا کر 

قفس میں کرگس و شاہین دونوں کیوں برابر ہیں؟ 

یہ نکتہ پوچھ لینا  طائر آزاد سے جا کر 

Friday, 11 November 2016

جب غلط بات پہ منصف کوئی اڑ جاتا ہے

جب غلط بات پہ منصف کوئی اڑ جاتا ہے
اس کو آئینہ دکھاؤ تو بگڑ جاتا ہے
روشنی کو جو اندھیروں میں اٹھاتا ہوں قدم
وہ قدم سوئے ہوئے سانپ پہ پڑ جاتا ہے
خوشبوؤں کو خس و خاشاک کو کیسا خطرہ
آندھیوں میں تو گھنا پیڑ اکھڑ جاتا ہے

اگر ہم زور دیتے بات پر تو بات بن جاتی

اگر ہم زور دیتے بات پر تو بات بن جاتی
سویرا تان دیتے رات پر تو بات بن جاتی
دریچے کھول کر ماضی کے مستقبل گنوا بیٹھے
نظر رکھتے اگر حالات پر تو بات بن جاتی
قلندر کو یہ طعنہ دے رہا تھا ایک دولت خاں
لگے رہتے مِری خدمات پر تو بات بن جاتی

قلم کش گر امیر رزم گاہ خیر و شر ہوتے

قلم کش گر امیرِ رزم گاہِ خیر و شر ہوتے
کلاہِ شاہ میں گوہر نہیں زیر و زبر ہوتے
ہمارے حاسدوں میں غالب و ذوق و ظفر ہوتے
اگر ہم اتفاقاً چند صدیاں پیشتر ہوتے
فلک چھوتے، ستارے توڑ لاتے آسمانوں سے
حقائق سے زمینوں کی اگر ہم بے خبر ہوتے

Tuesday, 8 November 2016

جب تری یاد ستائے تو غزل ہوتی ہے

جب تری یاد ستائے تو غزل ہوتی ہے
رات بھر نیند نہ آئے تو غزل ہوتی ہے
اجنبی ساتھ نبھائے تو غزل ہوتی ہے
اپنے ہو جائیں پرائے تو غزل ہوتی ہے
شب کی دہلیز پہ جلتے ہوئے یادوں کے چراغ
چاندنی آ کے بجھائے تو غزل ہوتی ہے

شوق وصال یار کا مارا ہوا نصیب

شوقِ وصالِ یار کا مارا ہوا نصیب
کل قیس کا تھا، آج ہمارا ہوا نصیب
تصویر جس کو دیکھ کے ہو جائیں چشم و دل
“چلمن سے اس پری کا نظارہ ہوا نصیب”
بوۓ وفا تھی جس میں محبت کا رنگ تھا
اللہ میاں کو کب کا وہ پیارا ہوا نصیب

Saturday, 1 October 2016

بر سر عام میرا حال زبوں پوچھتے ہیں

بر سرِ عام میرا حالِ زبوں پوچھتے ہیں
بات گھر کی تھی وہ بازار میں کیوں پوچھتے ہیں
کیا بتاؤں میں انہیں،۔ آپ بتائیں مجھ کو
بھول جاؤں کہ تجھے یاد رکھوں، پوچھتے ہیں
سُرمئی شام کی بانہوں میں سمٹتے سائے
زلف کا خم، تیری چِتون کا فْسوں پوچھتے ہیں

عزم میں آفتاب سا ایک دیا جلا ہوا

عزم میں آفتاب سا ایک دِیا جلا ہوا
آندھی میں کیسے ڈٹ گیا ایک دِیا جلا ہوا
ڈوبے ہیں تیرگی میں سب، طالبِ روشنی ہیں سب
ظلمت کدوں کی اِلتجا، ایک دِیا جلا ہوا
موت و حیات کی یہی تمثیل بھی ہے اصل بھی
ایک دِیا بجھا ہوا،۔۔ ایک دِیا جلا ہوا

غیر بیزار خفا آپ وہ نالاں مجھ سے

غیر بے زار، خفا آپ، وہ نالاں مجھ سے
مطمئن پھر بھی نہیں گردشِ دوراں مجھ سے
آشیاں پھُونک دِیا میں نے گُلوں کی خاطر
اور کیا چاہتے ہیں اہلِ گُلستاں مجھ سے
ہر بلا دست درازی سے کرے گی توبہ
تم لِپٹ جاؤ اگر ہو کے پریشاں مجھ سے

دشت میں جتنی وحشت رہی

دشت میں جتنی وحشت رہی
گلستاں کی بدولت رہی
دشمنی کے لیے ہی سہی
ان کو میری ضرورت رہی
کچھ تو لوگوں نے رُسوا کِیا
کچھ تمہاری شرارت رہی

Sunday, 23 November 2014

چاند تاروں کا خلاؤں کا سفر ٹھیک نہیں

چاند تاروں کا، خلاؤں کا سفر ٹھیک نہیں
گھر کے حالات مِری جان اگر ٹھیک نہیں
رخ سے اخبار کے ہو لاکھ عیاں خوشحالی
ہم کو معلوم ہے اندر کی خبر ٹھیک نہیں
چاہتا ہوں کہ تجھے دور سے دیکھوں اب کے
میری نزدیک کی اے دوست! نظر ٹھیک نہیں

اس طرح کیجئے اندیشہ فردا سے گریز

اس طرح کیجیے اندیشۂ فردا سے گریز
مصلحت کرتی ہے جس طرح شناسا سے گریز
تشنگی میری طرح تُو بھی قلندر نکلی
کبھی قطرے پہ تصدق کبھی دریا سے گریز
منزلِ عشق کا راہی ہوں مجھے کیا معلوم
دامنِ صبر ہے بہتر کہ تمنا سے گریز

اس سے پہلے کہ کالعدم ہو جائیں

اس سے پہلے کہ کالعدم ہو جائیں
آؤ، اک دوسرے میں ضم ہو جائیں
رات کو رات، دن کو دن لکھ کر
صفحۂ دہر پر رقم ہو جائیں
الجھنیں ختم ہو نہیں سکتیں
اتنی کوشش کریں کہ کم ہو جائیں

Saturday, 22 November 2014

بدگمانی چھوڑئیے دل کو کشادہ کیجیۓ

بدگمانی چھوڑئیے، دل کو کشادہ کیجیے
فائدہ پہنچائیے، یا استفادہ کیجیے
دوستو! دستِ عدو کیا ہے، خدا مل جائے گا
آپ پہلے دل سے ملنے کا ارادہ کیجیے
منزلِ دل سے لپٹ جائیں گے خود ہی فاصلے
چشم و لب کا آپ اک ہموار جادہ کیجیے

ہونٹوں پہ تبسم کی ادا کھیل رہی ہے

ہونٹوں پہ تبسم کی ادا کھیل رہی ہے
دو سرخ گلابوں سے صبا کھیل رہی ہے
دزدیدہ نگاہوں میں کئی تیر سجے ہیں
ابرو کی کمانوں میں قضا کھیل رہی ہے
سمجھو نہ الجھ بیٹھے ہیں رخسار سے گیسو
سورج کی تمازت سے گھٹا کھیل رہی ہے

شام بے کیف سہی شام ہے ڈھل جائے گی

شام بے کیف سہی، شام ہے ڈھل جائے گی
دن بھی نکلے گا، طبیعت بھی سنبھل جائے گی
اس قدر تیز ہے دل میں مِرے امید کی لَو
نا امیدی مِرے پاس آئی تو جل جائے گی
نرم شانوں پہ نہ بکھراؤ گھنیری زلفیں
ان گھٹاؤں سے شبِ تار دہل جائے گی

کنارے تاج کے رقصاں جسے پانی میں دیکھا ہے

کنارے تاج کے رقصاں جسے پانی میں دیکھا ہے
اسے ہم نے پریشاں تیری پیشانی میں دیکھا ہے
ڈراتا ہے اسے ناداں زمانہ موج و طوفاں سے
وہ جس نے خواب ہی ساحل کے طغیانی میں دیکھا ہے
جو منظر اہلِ بِینش آج دنیا کو دِکھاتے ہیں
میری آنکھوں نے اس کو دورِ نادانی میں دیکھا ہے