جب تری یاد ستائے تو غزل ہوتی ہے
رات بھر نیند نہ آئے تو غزل ہوتی ہے
اجنبی ساتھ نبھائے تو غزل ہوتی ہے
اپنے ہو جائیں پرائے تو غزل ہوتی ہے
شب کی دہلیز پہ جلتے ہوئے یادوں کے چراغ
رات کے پچھلے پہر چیختے سناٹوں کا
شور اعصاب پہ چھائے تو غزل ہوتی ہے
صبحدم نیند میں ڈوبے ہوئے تاروں کی تھکن
سوئے ارمان جگائے تو غزل ہوتی ہے
لوحِ احساس پہ بے ربط خیالوں کی دھنک
تیری تصویر بنائے تو غزل ہوتی ہے
چشمِ ادراک سے عالم کا نظارہ کر کے
کوئی ہنستا نظر آئے تو غزل ہوتی ہے
عقل کے بل پہ مکمل نہیں ہوتا مصرع
بے خودی زور لگائے تو غزل ہوتی ہے
بعض اوقات پریشان نگاہوں سے جلیلؔ
گھر کی دیوار ڈرائے تو غزل ہوتی ہے
جلیل نظامی
No comments:
Post a Comment