Tuesday, 8 November 2016

جب تری یاد ستائے تو غزل ہوتی ہے

جب تری یاد ستائے تو غزل ہوتی ہے
رات بھر نیند نہ آئے تو غزل ہوتی ہے
اجنبی ساتھ نبھائے تو غزل ہوتی ہے
اپنے ہو جائیں پرائے تو غزل ہوتی ہے
شب کی دہلیز پہ جلتے ہوئے یادوں کے چراغ
چاندنی آ کے بجھائے تو غزل ہوتی ہے
رات کے پچھلے پہر چیختے سناٹوں کا
شور اعصاب پہ چھائے تو غزل ہوتی ہے
صبحدم نیند میں ڈوبے ہوئے تاروں کی تھکن
سوئے ارمان جگائے تو غزل ہوتی ہے
لوحِ احساس پہ بے ربط خیالوں کی دھنک
تیری تصویر بنائے تو غزل ہوتی ہے
چشمِ ادراک سے عالم کا نظارہ کر کے
کوئی ہنستا نظر آئے تو غزل ہوتی ہے
عقل کے بل پہ مکمل نہیں ہوتا مصرع
بے خودی زور لگائے تو غزل ہوتی ہے
بعض اوقات پریشان نگاہوں سے جلیلؔ
گھر کی دیوار ڈرائے تو غزل ہوتی ہے

جلیل نظامی

No comments:

Post a Comment