ہے شام بھی یہ آخری دل بھی دُکھا ہُوا
غم بھی گِھسا پِٹا ہے، سُنایا سُنا ہوا
اس عشق وِشق میں نہیں کچھ بھی رکھا ہوا
سمجھاؤں گا جو مجھ سے مِرا رابطہ ہوا
صحرا کی خاک چھاننے نکلے تو کس طرح
گھر کے معاملات میں عاشق پھنسا ہوا
ہے شام بھی یہ آخری دل بھی دُکھا ہُوا
غم بھی گِھسا پِٹا ہے، سُنایا سُنا ہوا
اس عشق وِشق میں نہیں کچھ بھی رکھا ہوا
سمجھاؤں گا جو مجھ سے مِرا رابطہ ہوا
صحرا کی خاک چھاننے نکلے تو کس طرح
گھر کے معاملات میں عاشق پھنسا ہوا
عمر گزری ہے تری گلیوں کے چکر کاٹ کر
کیوں نہ لکھوں خود کو مجنوں میں سخنور کاٹ کر
جانے یہ کیسی شرارت آج سوجھی ہے اسے
وہ مجھے اڑنے کو کہتی ہے مرے پر کاٹ کر
جب بھی میں ہمت جٹا کر کرتا ہوں اظہار عشق
بولنے لگتی ہے پگلی بات اکثر کاٹ کر
کسی لیلٰی نہ کسی ہیر کے ساتھ
رات کاٹی تِری تصویر کے ساتھ
تم کو جب اتنی شکایت ہے تو پھر
باندھ رکھو مجھے زنجیر کے ساتھ
بات یہ ہے کہ کسی ان پڑھ کا
دل بندھا ہے تِری تحریر کے ساتھ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
شان عالی آپ کی رب کے پیمبر یا نبیﷺ
آپﷺ نبیوں میں بڑے محبوبِ داور یا نبیؐ
رات دنِ روضے کا پھیرا میں لگاتا جھوم کر
کاش ہوتا میں مدینے کا کبوتر یا نبیؐﷺ
ہند سے پرواز کرتا میں مدینے کی طرف
میرے بازو میں جو لگ جاتا کبھی پر یا نبیؐ
خواب میں کر کے رہائی کے نظارے قیدی
جاگ کر روتے رہے آج بے چارے قیدی
آپ کی دُنیا میں جُھولے کی سہولت ہو گی
جُھولتے ہیں یہاں سُولی کے سہارے قیدی
جانتے تھے کہ رہائی کی کوئی راہ نہیں
روز کرتے تھے پر اندھوں کو اشارے قیدی