Showing posts with label عامر عطا. Show all posts
Showing posts with label عامر عطا. Show all posts

Tuesday, 5 March 2024

ہے شام بھی یہ آخری دل بھی دکھا ہوا

 ہے شام بھی یہ آخری دل بھی دُکھا ہُوا

غم بھی گِھسا پِٹا ہے، سُنایا سُنا ہوا

اس عشق وِشق میں نہیں کچھ بھی رکھا ہوا

سمجھاؤں گا جو مجھ سے مِرا رابطہ ہوا

صحرا کی خاک چھاننے نکلے تو کس طرح

گھر کے معاملات میں عاشق پھنسا ہوا

Tuesday, 20 February 2024

عمر گزری ہے تری گلیوں کے چکر کاٹ کر

 عمر گزری ہے تری گلیوں کے چکر کاٹ کر

کیوں نہ لکھوں خود کو مجنوں میں سخنور کاٹ کر

جانے یہ کیسی شرارت آج سوجھی ہے اسے

وہ مجھے اڑنے کو کہتی ہے مرے پر کاٹ کر

جب بھی میں ہمت جٹا کر کرتا ہوں اظہار عشق

بولنے لگتی ہے پگلی بات اکثر کاٹ کر

Tuesday, 23 January 2024

کسی لیلٰی نہ کسی ہیر کے ساتھ

 کسی لیلٰی نہ کسی ہیر کے ساتھ

رات کاٹی تِری تصویر کے ساتھ

تم کو جب اتنی شکایت ہے تو پھر

باندھ رکھو مجھے زنجیر کے ساتھ

بات یہ ہے کہ کسی ان پڑھ کا

دل بندھا ہے تِری تحریر کے ساتھ

شان عالی آپ کی رب کے پیمبر یا نبی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


شان عالی آپ کی رب کے پیمبر یا نبیﷺ

آپﷺ نبیوں میں بڑے محبوبِ داور یا نبیؐ

رات دنِ روضے کا پھیرا میں لگاتا جھوم کر

کاش ہوتا میں مدینے کا  کبوتر یا نبیؐﷺ

ہند سے پرواز کرتا میں مدینے کی طرف

میرے بازو میں جو لگ جاتا کبھی پر یا نبیؐ

Monday, 22 January 2024

خواب میں کر کے رہائی کے نظارے قیدی

 خواب میں کر کے رہائی کے نظارے قیدی

جاگ کر روتے رہے آج بے چارے قیدی

آپ کی دُنیا میں جُھولے کی سہولت ہو گی

جُھولتے ہیں یہاں سُولی کے سہارے قیدی

جانتے تھے کہ رہائی کی کوئی راہ نہیں

روز کرتے تھے پر اندھوں کو اشارے قیدی