Wednesday, 21 October 2026

یہ کیا عجیب تماشا لگا کے رکھا گیا

 یہ کیا عجیب تماشا لگا کے رکھا گیا

کسی کا پیار مقابل انا کے رکھا گیا

وہاں سے تیز ہواؤں کے تیر مارے گئے

یہاں چراغ نشانے پہ لا کے رکھا گیا

یہی گُھٹن نہ اُسے خُودکشی پہ لے آئے

جو دل کی بات کو دل میں دبا کے رکھا گیا

اس پتا تھا یہ دل میں ٹھکانہ کر لے گا

میں اس لیے بھی ٹھکانے لگا کے رکھا گیا

چراغ بُجھتے گئے آندھیوں کے زوروں میں

بس ایک خواب کی لو کو بچا کے رکھا گیا

سنبھال رکھی ہیں یادیں پُرانی قبروں میں

ہر ایک زخم کو دل پہ سجا کے رکھا گیا

اب ایسی روشنی کرتی وہاں تو کیا کرتی

دِیا جلا کے مگر دل بُجھا کے رکھا گیا

کسی نے دُور سے اک قبر پر اِشارہ کیا

پھر ایک پھُول وہاں مُسکرا کے رکھا گیا


آثم سیال

No comments:

Post a Comment