یہ کیا عجیب تماشا لگا کے رکھا گیا
کسی کا پیار مقابل انا کے رکھا گیا
وہاں سے تیز ہواؤں کے تیر مارے گئے
یہاں چراغ نشانے پہ لا کے رکھا گیا
یہی گُھٹن نہ اُسے خُودکشی پہ لے آئے
جو دل کی بات کو دل میں دبا کے رکھا گیا
اس پتا تھا یہ دل میں ٹھکانہ کر لے گا
میں اس لیے بھی ٹھکانے لگا کے رکھا گیا
چراغ بُجھتے گئے آندھیوں کے زوروں میں
بس ایک خواب کی لو کو بچا کے رکھا گیا
سنبھال رکھی ہیں یادیں پُرانی قبروں میں
ہر ایک زخم کو دل پہ سجا کے رکھا گیا
اب ایسی روشنی کرتی وہاں تو کیا کرتی
دِیا جلا کے مگر دل بُجھا کے رکھا گیا
کسی نے دُور سے اک قبر پر اِشارہ کیا
پھر ایک پھُول وہاں مُسکرا کے رکھا گیا
آثم سیال
No comments:
Post a Comment