Saturday, 10 October 2026

روز میں ٹوٹ پھوٹ جاتا ہوں

 روز میں ٹوٹ پھوٹ جاتا ہوں 

روز پھر خود کو میں بناتا ہوں 

روز میں خود سے روٹھ جاتا ہوں

اور پھر خود کو میں مناتا ہوں 

روز اک کام کرنا ہوتا ہے 

روز وہ کام بھول جاتا ہوں

روز لکھتا ہوں ایک خط تجھ کو 

اور پھر روز وہ جلاتا ہوں

اور شدت سے یاد آتا ہے

جب بھی اس شخص کو بھلاتا ہوں

پیار اتنا ہی صاف دکھتا ہے 

جتنا بھی اس کو میں چھپاتا ہوں 

بات پھر اور بھی بگڑتی ہے 

جب بھی میں بات کو بناتا ہوں 

وہ محبت مجھے سکھاتی ہے

میں اسے شاعری سکھاتا ہوں


مسرور پیرزادو

No comments:

Post a Comment