روز میں ٹوٹ پھوٹ جاتا ہوں
روز پھر خود کو میں بناتا ہوں
روز میں خود سے روٹھ جاتا ہوں
اور پھر خود کو میں مناتا ہوں
روز اک کام کرنا ہوتا ہے
روز وہ کام بھول جاتا ہوں
روز لکھتا ہوں ایک خط تجھ کو
اور پھر روز وہ جلاتا ہوں
اور شدت سے یاد آتا ہے
جب بھی اس شخص کو بھلاتا ہوں
پیار اتنا ہی صاف دکھتا ہے
جتنا بھی اس کو میں چھپاتا ہوں
بات پھر اور بھی بگڑتی ہے
جب بھی میں بات کو بناتا ہوں
وہ محبت مجھے سکھاتی ہے
میں اسے شاعری سکھاتا ہوں
مسرور پیرزادو
No comments:
Post a Comment