ہیں آنسو بدگماں ہم سے ہمارے
کوئی روئے گلے لگ کے ہمارے
دیا ہے لمس کا تحفہ بدن کو
کسی نے کاڑھ کے کرتے ہمارے
ہوائیں بند کرتی، کھولتی ہیں
اسی پر خوش ہیں دروازے ہمارے
ہیں آنسو بدگماں ہم سے ہمارے
کوئی روئے گلے لگ کے ہمارے
دیا ہے لمس کا تحفہ بدن کو
کسی نے کاڑھ کے کرتے ہمارے
ہوائیں بند کرتی، کھولتی ہیں
اسی پر خوش ہیں دروازے ہمارے
چہک رہا تھا کوئی طائرِ دعا مجھ پر
وہ چپ ہوا تو کڑا وقت آ گیا مجھ پر
ہوئی ہے سنگِ گراں کے تلے نمو میری
تمام عمر مِرا بس نہیں چلا مجھ پر
جو آئے گا مِرے جی میں وہی کروں گا میں
کسی کا حق نہیں کوئی، مِرے سوا، مجھ پر
خیال عشق میں دنیا کا ہے نہ دیں کا مجھے
تِرے جمال نے چھوڑا نہیں کہیں کا مجھے
تو کیوں نہ پہلے میں یاروں سے معزرت کر لوں
غزل میں لفظ کھپانا ہے آستیں کا مجھے
نہیں ہے میرے دکھوں کا مِرے سوا کوئی
خیال اس لیے رکھنا ہے مجھ حزیں کا مجھے
سپنوں کا پالتا نہیں آزار خود سے میں
جاتا نہیں ہوں نیند کے اس پار خود سے میں
اس درجہ خود غرض ہوں کہ مشکل پڑے اگر
رکھتا نہیں ہوں کوئی سروکار خود سے میں
یہ کام مجھ میں ہوتا ہے خودکار چاک پر
شعروں کو شکل دیتا نہیں یار خود سے میں
دن رات بار بار بنایا گیا مجھے
تب جا کے شاہکار بنایا گیا مجھے
ہنستا تھا زور زور سے میں بات بات پر
دُکھ دے کے بُردبار بنایا گیا مجھے
وہ تُو ہے مجھ میں، جس کی حفاظت کے واسطے
باہر سے خاردار بنایا گیا مجھے
میں تیری مرضی میں شامل اپنی رضا کروں گا
تو اپنے خوابوں سے عشق کر میں دعا کروں گا
جو پہلا اندھا ملے گا اس کا بھلا کروں گا
نہ جن میں تو ہو میں ایسی آنکھوں کا کیا کروں گا
اگر وہ اک شخص میرے حصے میں آ گیا تو
میں شہر بھر کی قضا نمازیں ادا کروں گا
کبھی فراق کبھی لذت وصال میں رکھ
مجھ اعتدال سے عاری کو اعتدال میں رکھ
نچا رہا ہے مجھے انگلیوں پہ عشق تِرا
تمام عمر اسی رقص بے مثال میں رکھ
دکھی ہو دل تو اترتی ہے شاعری مجھ پر
تجھے غزل کی قسم ہے مجھے ملال میں رکھ
اس لیے قریۂ دل میں مِری عزت کم ہے
میرے کاسے میں ابھی عجز کی دولت کم ہے
میں ہر اک کام تسلی سے کیا کرتا ہوں
عشق مت سونپئے صاحب مجھے فرصت کم ہے
بانٹ سکتی ہے مِرا ہجر اداسی میری
آج کل مجھ پہ مگر اس کی عنایت کم ہے
اترا ہے پچپن برسوں کے روشن زینوں سے
یہ جو نور کا بور ہے مجھ پر چند مہینوں سے
کھل کر بات کروں گا خیر کے امکانات پہ میں
شہرِ خواب سے ہجرت پر مجبور مکینوں سے
میں نے اینٹ کا تکیہ رکھا خاک کی چادر پر
کون ہٹاتا اٹھ اٹھ کر جوتے قالینوں سے
اتنا ہوں اپنے آپ میں بیزار خود سے میں
مفرور ہو چکا ہوں کئی بار خود سے میں
پکڑا گیا ہوں اپنی جڑیں کاٹتے ہوئے
لوٹا نہیں ہوں اس لیے اس بار خود سے میں
گھر میں لگی ہوئی سبھی گھڑیاں اتار کر
طے کر رہا ہوں وقت کی رفتار خود سے میں
شام
خوبصورت تھی وہ
اپسراؤں سے بڑھ کر کہیں
خوبصورت تھی وہ
دن ڈھلے
ملگجی خامشی اوڑھ کر
مجھے نظم ہونا نہیں
میں وہ سانحہ ہوں جسے
سننے والے کی حسِ سماعت
چلی جاتی ہے
جسے پڑھنے والے کی بینائی
بچتی نہیں
ہماری زیر کو ظالم زبر سمجھتی ہے
دلوں کی آیتیں دنیا کدھر سمجھتی ہے
اگرچہ بر سرِ بازار ہے مگر خود کو
برہنگی پسِ دیوار و در سمجھتی ہے
پلی بڑھی ہے یہ خلقت خراب خبروں میں
سو کم بری ہو تو اچھی خبر سمجھتی ہے
بستیاں ویران تھیں احباب غائب تھے مِرے
ہنس غائب تھے مِرے تالاب غائب تھے مرے
رہ گیا تھا زندگی سے نام کا رشتہ مرا
روح زخمی تھی مِری، اعصاب غائب تھے مرے
صرف پیڑوں تک نہ تھی محدود ویرانی مری
جھاڑیوں سے جھانکتے سرخاب غائب تھے مرے
کیا سمجھ پائیں گے مجھ پیڑ کا آزار میاں
مُشت بھر خاک کے گملوں میں پڑے یار میاں
اپنے ہونےکی سزا کاٹتے پھرتے ہیں سبھی
کوئی اندر کوئی باہر سے گرفتار میاں
ڈھل گئی عمر میری شعبدہ بازی والی
اب میرے پاؤں پکڑ لیتے ہیں انگار میاں
المیہ
یہ ہمارے بدن
گرچہ اوروں کے جیسے ہیں
(دو ہاتھ، دو پاؤں، اک ناک اور سر وغیرہ وغیرہ)
مگر ہم درونِ بدن دوسروں سے
بہت مختلف ہیں
اپنے اجسام میں وہ جگہ جو کلیجے کی تھی
عذابِ شب سے گزارا ہوا نکلتا ہے
وہ دن جو دن میں کئی مرتبہ نکلتا ہے
فریب نکلا ہے اب تک کا ہر سفر اپنا
یہ زندگی کا سفر جانے کیا نکلتا ہے
کہیں وجود نہیں کائنات میں اس کا
ہماری جیب سے جس کا پتہ نکلتا ہے
مراجعت
وہیں کہیں
جہاں پہ آج ہم نہیں
بہت بہت بہت ہی دور، آج سے
جو ہو چکا ہے ہو رہا ہے آج بھی
یہ وقت جس کا سر ہے اور نہ پیر ہے
(جو ہے بھی تو ہمیں کوئی خبر نہیں)
جا اترے بے گانی چھت پر ایسا ہوتا ہے
یعنی شعر کا حال کبوتر جیسا ہوتا ہے
پہروں میری جان نہیں چھٹتی سرشاری سے
اچھے شعر کا نشہ کہنہ مے سا ہوتا ہے
جب اس نے میرے دل سے گولک کا کام لیا
تب میں نے بھی جانا پیسہ پیسہ ہوتا ہے
بنتا ہے مگر جشن منانے سے رہا میں
بچوں کی طرح ناچنے گانے سے رہا میں
اک زخم جو میرے لیے کعبے کی طرح ہے
ہر شخص کو اندر سے دکھانے سے رہا میں
دل میں بھی نکل سکتی ہے گجائشِ دنیا
لیکن اسے بازار بنانے سے رہا میں