Showing posts with label کبیر اطہر. Show all posts
Showing posts with label کبیر اطہر. Show all posts

Tuesday, 1 November 2022

ہیں آنسو بدگماں ہم سے ہمارے

 ہیں آنسو بدگماں ہم سے  ہمارے

کوئی روئے گلے لگ کے ہمارے 

دیا ہے لمس کا تحفہ بدن کو

کسی نے کاڑھ کے کرتے ہمارے 

ہوائیں بند کرتی، کھولتی ہیں

اسی پر خوش ہیں دروازے ہمارے 

Monday, 24 October 2022

چہک رہا تھا کوئی طائر دعا مجھ پر

 چہک رہا تھا کوئی طائرِ دعا مجھ پر

وہ چپ ہوا تو کڑا وقت آ گیا مجھ پر

ہوئی ہے سنگِ گراں کے تلے نمو میری

تمام عمر مِرا بس نہیں چلا مجھ پر

جو آئے گا مِرے جی میں وہی کروں گا میں

کسی کا حق نہیں کوئی، مِرے سوا، مجھ پر

Wednesday, 19 October 2022

خیال عشق میں دنیا کا ہے نہ دیں کا مجھے

 خیال عشق میں دنیا کا ہے نہ دیں کا مجھے

تِرے جمال نے چھوڑا نہیں کہیں کا مجھے

تو کیوں نہ پہلے میں یاروں سے معزرت کر لوں

غزل میں لفظ کھپانا ہے آستیں کا مجھے

نہیں ہے میرے دکھوں کا مِرے سوا کوئی

خیال اس لیے رکھنا ہے مجھ حزیں کا مجھے

Thursday, 13 October 2022

سپنوں کا پالتا نہیں آزار خود سے میں

 سپنوں کا پالتا نہیں آزار خود سے میں

جاتا نہیں ہوں نیند کے اس پار خود سے میں

اس درجہ خود غرض ہوں کہ مشکل پڑے اگر

رکھتا نہیں ہوں کوئی سروکار خود سے میں

یہ کام مجھ میں ہوتا ہے خودکار چاک پر

شعروں کو شکل دیتا نہیں یار خود سے میں

Tuesday, 21 June 2022

دن رات بار بار بنایا گیا مجھے

 دن رات بار بار بنایا گیا مجھے

تب جا کے شاہکار بنایا گیا مجھے

ہنستا تھا زور زور سے میں بات بات پر

دُکھ دے کے بُردبار بنایا گیا مجھے

وہ تُو ہے مجھ میں، جس کی حفاظت کے واسطے

باہر سے خاردار بنایا گیا مجھے

Wednesday, 15 June 2022

میں تیری مرضی میں شامل اپنی رضا کروں گا

میں تیری مرضی میں شامل اپنی رضا کروں گا

تو اپنے خوابوں سے عشق کر میں دعا کروں گا

جو پہلا اندھا ملے گا اس کا بھلا کروں گا

نہ جن میں تو ہو میں ایسی آنکھوں کا کیا کروں گا

اگر وہ اک شخص میرے حصے میں آ گیا تو

میں شہر بھر کی قضا نمازیں ادا کروں گا

Monday, 6 June 2022

کبھی فراق کبھی لذت وصال میں رکھ

 کبھی فراق کبھی لذت وصال میں رکھ

مجھ اعتدال سے عاری کو اعتدال میں رکھ

نچا رہا ہے مجھے انگلیوں پہ عشق تِرا

تمام عمر اسی رقص بے مثال میں رکھ

دکھی ہو دل تو اترتی ہے شاعری مجھ پر

تجھے غزل کی قسم ہے مجھے ملال میں رکھ

Saturday, 30 April 2022

اس لیے قریۂ دل میں مری عزت کم ہے

 اس لیے قریۂ دل میں مِری عزت کم ہے

میرے کاسے میں ابھی عجز کی دولت کم ہے

میں ہر اک کام تسلی سے کیا کرتا ہوں

عشق مت سونپئے صاحب مجھے فرصت کم ہے

بانٹ سکتی ہے مِرا ہجر اداسی میری

آج کل مجھ پہ مگر اس کی عنایت کم ہے

Friday, 22 April 2022

اترا ہے پچپن برسوں کے روشن زینوں سے

 اترا ہے پچپن برسوں کے روشن زینوں سے

یہ جو نور کا بور ہے مجھ پر چند مہینوں سے

کھل کر بات کروں گا خیر کے امکانات پہ میں

شہرِ خواب سے ہجرت پر مجبور مکینوں سے

میں نے اینٹ کا تکیہ رکھا خاک کی چادر پر

کون ہٹاتا اٹھ اٹھ کر جوتے قالینوں سے

Thursday, 21 April 2022

اتنا ہوں اپنے آپ میں بیزار خود سے میں

 اتنا ہوں اپنے آپ میں بیزار خود سے میں

مفرور ہو چکا ہوں کئی بار خود سے میں

پکڑا گیا ہوں اپنی جڑیں کاٹتے ہوئے

لوٹا نہیں ہوں اس لیے اس بار خود سے میں

گھر میں لگی ہوئی سبھی گھڑیاں اتار کر

طے کر رہا ہوں وقت کی رفتار خود سے میں

Wednesday, 20 April 2022

شام خوبصورت تھی وہ

 شام 

خوبصورت تھی وہ

اپسراؤں سے بڑھ کر کہیں

خوبصورت تھی وہ

دن ڈھلے

ملگجی خامشی اوڑھ کر

Wednesday, 2 March 2022

مجھے نظم ہونا نہیں

 مجھے نظم ہونا نہیں


میں وہ سانحہ ہوں جسے

سننے والے کی حسِ سماعت

چلی جاتی ہے

جسے پڑھنے والے کی بینائی

بچتی نہیں

Saturday, 5 February 2022

ہماری زیر کو ظالم زبر سمجھتی ہے

ہماری زیر کو ظالم زبر سمجھتی ہے

دلوں کی آیتیں دنیا کدھر سمجھتی ہے

اگرچہ بر سرِ بازار ہے مگر خود کو

برہنگی پسِ دیوار و در سمجھتی ہے

پلی بڑھی ہے یہ خلقت خراب خبروں میں

سو کم بری ہو تو اچھی خبر سمجھتی ہے

Sunday, 9 January 2022

بستیاں ویران تھیں احباب غائب تھے مرے

 بستیاں ویران تھیں احباب غائب تھے مِرے

ہنس غائب تھے مِرے تالاب غائب تھے مرے

رہ گیا تھا زندگی سے نام کا رشتہ مرا

روح زخمی تھی مِری، اعصاب غائب تھے مرے

صرف پیڑوں تک نہ تھی محدود ویرانی مری

جھاڑیوں سے جھانکتے سرخاب غائب تھے مرے

Friday, 24 September 2021

کیا سمجھ پائیں گے مجھ پیڑ کا آزار میاں

 کیا سمجھ پائیں گے مجھ پیڑ کا آزار میاں

مُشت بھر خاک کے گملوں میں پڑے یار میاں

اپنے ہونےکی سزا کاٹتے پھرتے ہیں سبھی

کوئی اندر کوئی باہر سے گرفتار میاں

ڈھل گئی عمر میری شعبدہ بازی والی

اب میرے پاؤں پکڑ لیتے ہیں انگار میاں

Sunday, 25 July 2021

المیہ یہ ہمارے بدن گرچہ اوروں کے جیسے ہیں

 المیہ


یہ ہمارے بدن

گرچہ اوروں کے جیسے ہیں

(دو ہاتھ، دو پاؤں، اک ناک اور سر وغیرہ وغیرہ)

مگر ہم درونِ بدن دوسروں سے

بہت مختلف ہیں

اپنے اجسام میں وہ جگہ جو کلیجے کی تھی

Wednesday, 21 July 2021

عذاب شب سے گزارا ہوا نکلتا ہے

 عذابِ شب سے گزارا ہوا نکلتا ہے

وہ دن جو دن میں کئی مرتبہ نکلتا ہے

فریب نکلا ہے اب تک کا ہر سفر اپنا

یہ زندگی کا سفر جانے کیا نکلتا ہے

کہیں وجود نہیں کائنات میں اس کا

ہماری جیب سے جس کا پتہ نکلتا ہے

Monday, 23 November 2020

وہیں کہیں جہاں پہ آج ہم نہیں

 مراجعت


وہیں کہیں

جہاں پہ آج ہم نہیں

بہت بہت بہت ہی دور، آج سے

جو ہو چکا ہے ہو رہا ہے آج بھی

یہ وقت جس کا سر ہے اور نہ پیر ہے

(جو ہے بھی تو ہمیں کوئی خبر نہیں)

Monday, 2 November 2020

جا اترے بیگانی چھت پر ایسا ہوتا ہے

 جا اترے بے گانی چھت پر ایسا ہوتا ہے

یعنی شعر کا حال کبوتر جیسا ہوتا ہے

پہروں میری جان نہیں چھٹتی سرشاری سے

اچھے شعر کا نشہ کہنہ مے سا ہوتا ہے

جب اس نے میرے دل سے گولک کا کام لیا

تب میں نے بھی جانا پیسہ پیسہ ہوتا ہے

Wednesday, 14 October 2020

بنتا ہے مگر جشن منانے سے رہا میں

 بنتا ہے مگر جشن منانے سے رہا میں

بچوں کی طرح ناچنے گانے سے رہا میں

اک زخم جو میرے لیے کعبے کی طرح ہے

ہر شخص کو اندر سے دکھانے سے رہا میں

دل میں بھی نکل سکتی ہے گجائشِ دنیا

لیکن اسے بازار بنانے سے رہا میں