عذابِ شب سے گزارا ہوا نکلتا ہے
وہ دن جو دن میں کئی مرتبہ نکلتا ہے
فریب نکلا ہے اب تک کا ہر سفر اپنا
یہ زندگی کا سفر جانے کیا نکلتا ہے
کہیں وجود نہیں کائنات میں اس کا
ہماری جیب سے جس کا پتہ نکلتا ہے
ابھی تو اور بڑھے گا ہماری عمر کے ساتھ
بدن کے قرب سے جو فاصلہ نکلتا ہے
کسی کی ہوتی ہے عجلت بھی قند جیسی کبیر
کسی کا صبر بھی بد ذائقہ نکلتا ہے
کبیر اطہر
No comments:
Post a Comment