Showing posts with label فرحت احساس. Show all posts
Showing posts with label فرحت احساس. Show all posts

Tuesday, 20 December 2022

بہت زمین بہت آسماں ملیں گے تمہیں

 بہت زمین بہت آسماں ملیں گے تمہیں

پہ ہم سے خاک کے پتلے کہاں ملیں گے تمہیں

خرید لو ابھی بازار میں نئے ہیں ہم

کہ بعد میں تو بہت ہی گراں ملیں گے تمہیں

اب ابتدائے سفر ہے تو جو ہے کہہ سن لو

ہم اس کے بعد نہ جانے کہاں ملیں گے تمہیں

Monday, 29 August 2022

ہے شور ساحلوں پر سیلاب آ رہا ہے

 ہے شور ساحلوں پر؛ سیلاب آ رہا ہے

آنکھوں کو غرق کرنے پھر خواب آ رہا ہے

بس ایک جسم دے کر رخصت کیا تھا اس نے

اور، یہ کہا تھا؛ باقی اسباب آ رہا ہے

خاکِ وصال کیا کیا صورت بدل رہی ہے

سورج گزر چکا ہے،۔ مہتاب آ رہا ہے

Saturday, 2 July 2022

اگر میں چیخوں تو کیا کرو گے

 اگر میں چیخوں


اگر میں چیخوں

میں اپنے دل کی تمام گہرائیوں سے چیخوں

تو کائناتی نظام میں کیا خلل پڑے گا

یہی کہ

اندھے کنویں سے اک بازگشت ہو گی

Thursday, 27 January 2022

بڑھاؤ ہاتھ بڑھاؤ فقیر موج میں ہے

 بڑھاؤ ہاتھ بڑھاؤ فقیر موج میں ہے

تونگرو! ادھر آؤ فقیر موج میں ہے

جسے بھی چاہیے خیرات نور لے جائے

بھڑک رہا ہے الاؤ فقیر موج میں ہے

خرید لے نہ تمہاری یہ کائنات تمام

اسے بتانا نہ بھاؤ فقیر موج میں ہے

Monday, 18 October 2021

راہ کی کچھ تو رکاوٹ یار کم کر دیجیے

 راہ کی کچھ تو رکاوٹ یار کم کر دیجیۓ

آپ اپنے گھر کی اک دیوار کم کر دیجیۓ

آپ کا عاشق بہت کمزور دل کا ہے حضور

دیکھیۓ یہ شدتِ انکار کم کر دیجیۓ

میں بھی ہونٹوں سے کہوں گا کم کریں جلنے کا شوق

آپ اگر سرگرمئ رخسار کم کر دیجیۓ

Tuesday, 20 July 2021

عمر بے وجہ گزارے بھی نہیں جا سکتے

 عمر بے وجہ گزارے بھی نہیں جا سکتے

اتنے زندہ ہیں کہ مارے بھی نہیں جا سکتے

حال اب یہ ہے کہ دریا میں بھی لگتا نہیں جی

اور کسی ایک کنارے بھی نہیں جا سکتے

اس جگہ جا کے وہ بیٹھا ہے بھری محفل میں

اب جہاں میرے اشارے بھی نہیں جا سکتے

Thursday, 15 July 2021

دشت وحشت نے پھر پکارا ہے

 دشتِ وحشت نے پھر پکارا ہے

زندگی آج تو گوارا ہے

ڈوبنے سے بچا کے مانجھی نے

درد کے گھاٹ لا اتارا ہے

لاکھ تو مجھ سے ہے مگر مجھ میں

کب تِری ہمسری کا یارا ہے

Wednesday, 16 June 2021

اگر میں اپنے دل کی تمام گہرائیوں سے چیخوں

 اگر میں چیخوں


اگر میں چیخوں

میں اپنے دل کی تمام گہرائیوں سے چیخوں

تو کائناتی نظام میں کیا خلل پڑے گا

یہی کہ

اندھے کنویں سے اک بازگشت ہو گی

کہے گی کیوں تم کو کیا ہوا ہے؟

Friday, 19 March 2021

ہوئی اک خواب سے شادی مری تنہائی کی

 ہوئی اک خواب سے شادی مِری تنہائی کی

پہلی بیٹی ہے اُداسی مری تنہائی کی

ابھی معلوم نہیں کتنے ہیں ذاتی اسباب

کتنی وجہیں ہیں سماجی مری تنہائی کی

جا کے دیکھا تو کھُلا رونقِ بازار کا راز

ایک اک چیز بنی تھی مری تنہائی کی

Monday, 26 October 2020

گھر میں چیزیں بڑھ رہی ہیں زندگی کم ہو رہی ہے

 گھر میں چیزیں بڑھ رہی ہیں زندگی کم ہو رہی ہے

دھیرے دھیرے گھر کی اپنی روشنی کم ہو رہی ہے

شہر کے بازار کی رونق میں دل بجھنے لگے ہیں

خوب خوش ہونے کی خواہش میں خوشی کم ہو رہی ہے

اب کسی کو بھی چھوؤ، لگتا ہے پہلے سے چھوا سا

وہ جو تھی پہلے پہل کی سنسنی، کم ہو رہی ہے

Sunday, 26 July 2020

پوری طرح سے اب کے تیار ہو کے نکلے

پوری طرح سے اب کے تیار ہو کے نکلے
ہم چارہ گر سے ملنے "بیمار" ہو کے نکلے
جادو بھری جگہ ہے "بازار" تم نہ جانا
اک بار "ہم" گئے تھے بازار ہو کے نکلے
مٹی کے راستوں پہ اترے عمارتوں سے
واپس عمارتوں کے "آثار" ہو کے نکلے

اس کی تو یہ عادت ہے کسی کا نہیں ہوتا

اس کی تو یہ عادت ہے کسی کا نہیں ہوتا
پھر اس میں عجیب کیا کہ ہمارا نہیں ہوتا
کچھ پیڑ بھی بے فیض ہیں اس راہگزر کے
کچھ دھوپ بھی ایسی ہے کہ سایا نہیں ہوتا
خوابوں میں جو اک شہر بنا دیتا ہے مجھ کو
جب آنکھ "کھلی" ہو تو وہ چہرا نہیں ہوتا

Saturday, 25 July 2020

خاک ہے میرا بدن خاک ہی اس کا ہو گا

خاک ہے میرا بدن، خاک ہی اس کا ہو گا
دونوں مل جائیں تو کیا زور کا صحرا ہو گا
پھر مِرا جسم مِری جاں سے جدا ہے دیکھو
تم نے ٹانکا جو لگایا تھا،۔ وہ "کچا" ہو گا
تم کو رونے سے بہت صاف ہوئی ہیں آنکھیں
جو بھی اب سامنے آئے گا،۔ وہ "اچھا" ہو گا

وہ میری جاں کے صدف میں گہر سا رہتا ہے

وہ میری جاں کے صدف میں گہر سا رہتا ہے
میں اس کو توڑ نہ ڈالوں، یہ ڈر سا رہتا ہے
وہ چہرہ ایک "شفا خانہ" ہے مِری خاطر
وہ ہو تو جیسے کوئی "چارہ گر" سا رہتا ہے
میں اس نگاہ کے ہمراہ جب سے آیا ہوں
مجھے نہ جانے کہاں کا سفر سا رہتا ہے

Friday, 24 July 2020

مسلسل اشک باری ہو رہی ہے

مسلسل اشک باری ہو رہی ہے
مِری مٹی بہاری ہو رہی ہے
دِیے کی ایک لو اور تختۂ شب
عجب صورت نگاری ہو رہی ہے
یہ میرا کچھ نہ ہونا درج کر لو
اگر مردم شماری ہو رہی ہے

جسم کی کچھ اور ابھی مٹی نکال

جسم کی کچھ اور ابھی مٹی نکال
اور ابھی گہرائی سے پانی نکال
اے خدا میری رگوں میں دوڑ جا
شاخِ دل پر اک ہری پتی نکال
بھیج پھر سے اپنی آوازوں کا رزق
پھر مِرے صحرا سے اک بستی نکال

Thursday, 23 July 2020

دل نے امداد کبھی حسب ضرورت نہیں دی

دل نے امداد کبھی حسبِ ضرورت نہیں دی
دشت میں عقل نہ دی شہر میں وحشت نہیں دی
عشق تو آج بھی ہے کس کے لہو سے سرسبز
کس مہم کے لیے ہم نے تجھے اجرت نہیں دی
"دھوپ بولی کہ "میں آبائی وطن ہوں تیرا
میں نے پھر سایۂ دیوار کو زحمت نہیں دی

رات ہوئی

رات ہوئی

تم کو پا لینے کی دھن میں
دنیا اوڑھی
رنگ برنگے کپڑے پہنے
پیشانی پر سورج باندھا
آنگن بھر میں دھوپ بچھائی

Wednesday, 22 July 2020

ذات سمندر بن جاتی ہے

سمندر

لفظ بہت سے
جگمگ جگمگ کرتے تارے
چاند نہیں بننے پاتے ہیں
رات گلے میں پھنس جاتی ہے
جذبے کتنے
بورائی الہڑ خوشبوئیں

اب دل کی طرف درد کی یلغار بہت ہے

اب دل کی طرف درد کی یلغار بہت ہے
دنیا مرے زخموں کی طلب گار بہت ہے
اب 'ٹوٹ' رہا ہے مِری ہستی کا تصور
اس وقت مجھے تجھ سے سروکار بہت ہے
مٹی کی یہ دیوار کہیں 'ٹوٹ' نہ جائے
روکو، کہ مِرے خون کی رفتار بہت ہے