بہت زمین بہت آسماں ملیں گے تمہیں
پہ ہم سے خاک کے پتلے کہاں ملیں گے تمہیں
خرید لو ابھی بازار میں نئے ہیں ہم
کہ بعد میں تو بہت ہی گراں ملیں گے تمہیں
اب ابتدائے سفر ہے تو جو ہے کہہ سن لو
ہم اس کے بعد نہ جانے کہاں ملیں گے تمہیں
بہت زمین بہت آسماں ملیں گے تمہیں
پہ ہم سے خاک کے پتلے کہاں ملیں گے تمہیں
خرید لو ابھی بازار میں نئے ہیں ہم
کہ بعد میں تو بہت ہی گراں ملیں گے تمہیں
اب ابتدائے سفر ہے تو جو ہے کہہ سن لو
ہم اس کے بعد نہ جانے کہاں ملیں گے تمہیں
ہے شور ساحلوں پر؛ سیلاب آ رہا ہے
آنکھوں کو غرق کرنے پھر خواب آ رہا ہے
بس ایک جسم دے کر رخصت کیا تھا اس نے
اور، یہ کہا تھا؛ باقی اسباب آ رہا ہے
خاکِ وصال کیا کیا صورت بدل رہی ہے
سورج گزر چکا ہے،۔ مہتاب آ رہا ہے
اگر میں چیخوں
اگر میں چیخوں
میں اپنے دل کی تمام گہرائیوں سے چیخوں
تو کائناتی نظام میں کیا خلل پڑے گا
یہی کہ
اندھے کنویں سے اک بازگشت ہو گی
بڑھاؤ ہاتھ بڑھاؤ فقیر موج میں ہے
تونگرو! ادھر آؤ فقیر موج میں ہے
جسے بھی چاہیے خیرات نور لے جائے
بھڑک رہا ہے الاؤ فقیر موج میں ہے
خرید لے نہ تمہاری یہ کائنات تمام
اسے بتانا نہ بھاؤ فقیر موج میں ہے
راہ کی کچھ تو رکاوٹ یار کم کر دیجیۓ
آپ اپنے گھر کی اک دیوار کم کر دیجیۓ
آپ کا عاشق بہت کمزور دل کا ہے حضور
دیکھیۓ یہ شدتِ انکار کم کر دیجیۓ
میں بھی ہونٹوں سے کہوں گا کم کریں جلنے کا شوق
آپ اگر سرگرمئ رخسار کم کر دیجیۓ
عمر بے وجہ گزارے بھی نہیں جا سکتے
اتنے زندہ ہیں کہ مارے بھی نہیں جا سکتے
حال اب یہ ہے کہ دریا میں بھی لگتا نہیں جی
اور کسی ایک کنارے بھی نہیں جا سکتے
اس جگہ جا کے وہ بیٹھا ہے بھری محفل میں
اب جہاں میرے اشارے بھی نہیں جا سکتے
دشتِ وحشت نے پھر پکارا ہے
زندگی آج تو گوارا ہے
ڈوبنے سے بچا کے مانجھی نے
درد کے گھاٹ لا اتارا ہے
لاکھ تو مجھ سے ہے مگر مجھ میں
کب تِری ہمسری کا یارا ہے
اگر میں چیخوں
اگر میں چیخوں
میں اپنے دل کی تمام گہرائیوں سے چیخوں
تو کائناتی نظام میں کیا خلل پڑے گا
یہی کہ
اندھے کنویں سے اک بازگشت ہو گی
کہے گی کیوں تم کو کیا ہوا ہے؟
ہوئی اک خواب سے شادی مِری تنہائی کی
پہلی بیٹی ہے اُداسی مری تنہائی کی
ابھی معلوم نہیں کتنے ہیں ذاتی اسباب
کتنی وجہیں ہیں سماجی مری تنہائی کی
جا کے دیکھا تو کھُلا رونقِ بازار کا راز
ایک اک چیز بنی تھی مری تنہائی کی
گھر میں چیزیں بڑھ رہی ہیں زندگی کم ہو رہی ہے
دھیرے دھیرے گھر کی اپنی روشنی کم ہو رہی ہے
شہر کے بازار کی رونق میں دل بجھنے لگے ہیں
خوب خوش ہونے کی خواہش میں خوشی کم ہو رہی ہے
اب کسی کو بھی چھوؤ، لگتا ہے پہلے سے چھوا سا
وہ جو تھی پہلے پہل کی سنسنی، کم ہو رہی ہے