دل نے امداد کبھی حسبِ ضرورت نہیں دی
دشت میں عقل نہ دی شہر میں وحشت نہیں دی
عشق تو آج بھی ہے کس کے لہو سے سرسبز
کس مہم کے لیے ہم نے تجھے اجرت نہیں دی
"دھوپ بولی کہ "میں آبائی وطن ہوں تیرا
سر سلامت لیے لوٹ آئے گلی سے اس کی
یار نے ہم کو کوئی ڈھنگ کی خدمت نہیں دی
"عشق میں ایک بڑا ظلم ہے "ثابت قدمی
وقت نے بھی ہمیں اس باب میں قدرت نہیں دی
فرحتؔ احساس تو ہم خود ہی بنے ہیں، ورنہ
فرحت اللہ نے کبھی اس کی اجازت نہیں دی
فرحت احساس
No comments:
Post a Comment