Thursday, 23 July 2020

رات ہوئی

رات ہوئی

تم کو پا لینے کی دھن میں
دنیا اوڑھی
رنگ برنگے کپڑے پہنے
پیشانی پر سورج باندھا
آنگن بھر میں دھوپ بچھائی
دیواروں پر سبزہ ڈالا
پھولوں، پتوں سے اپنی چوکھٹ رنگوائی
موسم آئے
موسم بیتے
سورج نکلا، دھوپ کھلی
پھر دھوپ چڑھی پھر اور چڑھی
پھر شام ہوئی
پھر گہری کالی رات ہوئی

فرحت احساس

No comments:

Post a Comment