محبت کی نامکمل نظم
اک ہمہ وقت تصور جو توجہ نہیں کھونے دیتا
کتنی جہتوں سے کٹا رہتا ہوں دن بھر لیکن
شام ہوتی ہے تو بھر جاتا ہے دل چشمِ زدن میں تجھ سے
اور میں سوچنے لگتا ہوں کہ
مصروفیت و واہمۂ گردشِ ایام تِرا حل نہیں ہیں
محبت کی نامکمل نظم
اک ہمہ وقت تصور جو توجہ نہیں کھونے دیتا
کتنی جہتوں سے کٹا رہتا ہوں دن بھر لیکن
شام ہوتی ہے تو بھر جاتا ہے دل چشمِ زدن میں تجھ سے
اور میں سوچنے لگتا ہوں کہ
مصروفیت و واہمۂ گردشِ ایام تِرا حل نہیں ہیں
کچھ اور رہے یا نہ بھی رہے اک مکھ سوہنے کا نور رہے
وہ ساتھ ہی ہو اور یہ بھی نہ ہو مہجور رہے مجبور رہے
اک رستے پر روشن چہرے اک صبح کی امید لئے
سب روزِ ازل سے نکلے تھے اک عرصے تک رنجور رہے
وہ آگ کہ جسم جلاتی تھی اس آگ کا ایندھن ہم سب تھے
ہم آگ کو دوست بنا بیٹھے ہم جلنے میں مسرور رہے
دھوپ سہنی ہے مگر رستہ ڈھکا رکھنا ہے
ہم درختوں نے ہی جنگل کو ہرا رکھنا ہے
تاکہ زنداں میں سہولت سے گزر پائے ہوا
جسم کو جگہ تو دینی ہے، خلا رکھنا ہے
ایک دن ایسے ہی پوچھا کہ مجھے رکھ لو گے
بے یقینی سے کسی نے یہ کہا "رکھنا ہے"
زمین
اس خرابے میں کچھ جگہیں وہ ہیں
کہ جہاں اس نے پاؤں رکھے تھے
اور وہ ساری خوبصورت ہیں
ذکی عاطف
پرانی ہاتھ میں رکھتے، نئی بھی مانگتے ہیں
خوشی کے بدلے میں ہم لوگ اداسی مانگتے ہیں
ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں دُعا کے سوا
تو ہم بوقتِ ضرورت دُعا ہی مانگتے ہیں
ہمیں پتہ ہے کہ عرصہ گزارنا ہے ہمیں
ہم اس لیے تو قفس میں بھی کھڑکی مانگتے ہیں
نشانِ سجدہ سبھی شہر کی جبین پہ تھا
بس ایک داغ تھا جو میری آستین پہ تھا
یہ دشت وشت اچانک سے بن گئے ہیں یہاں
وگرنہ میں تو بہت معتدل زمین پہ تھا
ہوا پہ تیری توجہ پہ یا کہ روشنی پر
بقائے ارض کا دار و مدار تین پہ تھا
بچھڑ گئے تو دوبارہ رستے نہیں ملیں گے
یہ خواب مہنگے ہیں یار سستے نہیں ملیں گے
وہ جِن پہ شعروں کی شکل میں زندگی لکھی تھیں
وہ کاپیاں، وہ پرانے دستے نہیں ملیں گے
تمہارے ہونٹوں سے ہے کشیدہ غمِ محبت
ہمارے ہونٹ اب کبھی بھی ہنستے نہیں ملیں گے
گلی سے شور اٹھا کر مکان میں لایا
میں اپنے آپ کو اب جا کے دھیان میں لایا
جلائے لاشۂ عشاق گاؤں والوں نے
تو میرا شعر انہیں داستان میں لایا
میں تیرے مہندی لگے ہاتھ پر ہوا بیعت
میں آج سے مجھے تیری امان میں لایا
برائے نام غذا کے لیے بنے ہوئے ہیں
تمہارے ہونٹ ضیا کے لیے بنے ہوئے ہیں
ہم ایسی آئتیں بے ترجمہ پڑھی گئی تھیں
ہم ایسے سجدے قضا کے لیے بنے ہوئے ہیں
یہ آنکھیں دیکھنے کے کام تو نہیں آتیں
یہ دونوں کان ہوا کے لیے بنے ہوئے ہیں
دیکھنے میں جو خداؤں سے ڈرے سوچتے ہیں
کون جانے کہ اکیلے میں کسے سوچتے ہیں
ہم ترے دست مسیحائی کو ترسے ہوئے لوگ
جس سے بھی ہاتھ ملاتے ہیں تجھے سوچتے ہیں
یہ تجھے دیکھنے کی کوششِ ناکام ہے پر
شہر میں جتنے بھی اندھے ہیں دِیے سوچتے ہیں