Showing posts with label ذکی عاطف. Show all posts
Showing posts with label ذکی عاطف. Show all posts

Saturday, 5 November 2022

اک ہمہ وقت تصور جو توجہ نہیں کھونے دیتا

 محبت کی نامکمل نظم


اک ہمہ وقت تصور جو توجہ نہیں کھونے دیتا

کتنی جہتوں سے کٹا رہتا ہوں دن بھر لیکن

شام ہوتی ہے تو بھر جاتا ہے دل چشمِ زدن میں تجھ سے

اور میں سوچنے لگتا ہوں کہ

مصروفیت و واہمۂ گردشِ ایام تِرا حل نہیں ہیں

Thursday, 2 September 2021

کچھ اور رہے یا نہ بھی رہے اک مکھ سوہنے کا نور رہے

 کچھ اور رہے یا نہ بھی رہے اک مکھ سوہنے کا نور رہے

وہ ساتھ ہی ہو اور یہ بھی نہ ہو مہجور رہے مجبور رہے

اک رستے پر روشن چہرے اک صبح کی امید لئے

سب روزِ ازل سے نکلے تھے اک عرصے تک رنجور رہے

وہ آگ کہ جسم جلاتی تھی اس آگ کا ایندھن ہم سب تھے

ہم آگ کو دوست بنا بیٹھے ہم جلنے میں مسرور رہے

Monday, 21 June 2021

دھوپ سہنی ہے مگر رستہ ڈھکا رکھنا ہے

 دھوپ سہنی ہے مگر رستہ ڈھکا رکھنا ہے

ہم درختوں نے ہی جنگل کو ہرا رکھنا ہے

تاکہ زنداں میں سہولت سے گزر پائے ہوا

جسم کو جگہ تو دینی ہے، خلا رکھنا ہے

ایک دن ایسے ہی پوچھا کہ مجھے رکھ لو گے

بے یقینی سے کسی نے یہ کہا "رکھنا ہے"

Monday, 14 June 2021

خوبصورت زمیں

 زمین


اس خرابے میں کچھ جگہیں وہ ہیں

کہ جہاں اس نے پاؤں رکھے تھے

اور وہ ساری خوبصورت ہیں


ذکی عاطف

Friday, 4 June 2021

پرانی ہاتھ میں رکھتے نئی بھی مانگتے ہیں

 پرانی ہاتھ میں رکھتے، نئی بھی مانگتے ہیں

خوشی کے بدلے میں ہم لوگ اداسی مانگتے ہیں

ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں دُعا کے سوا

تو ہم بوقتِ ضرورت دُعا ہی مانگتے ہیں

ہمیں پتہ ہے کہ عرصہ گزارنا ہے ہمیں

ہم اس لیے تو قفس میں بھی کھڑکی مانگتے ہیں

Tuesday, 1 June 2021

نشان سجدہ سبھی شہر کی جبین پہ تھا

 نشانِ سجدہ سبھی شہر کی جبین پہ تھا

بس ایک داغ تھا جو میری آستین پہ تھا

یہ دشت وشت اچانک سے بن گئے ہیں یہاں

وگرنہ میں تو بہت معتدل زمین پہ تھا

ہوا پہ تیری توجہ پہ یا کہ روشنی پر

بقائے ارض کا دار و مدار تین پہ تھا

Friday, 28 May 2021

بچھڑ گئے تو دوبارہ رستے نہیں ملیں گے

 بچھڑ گئے تو دوبارہ رستے نہیں ملیں گے

یہ خواب مہنگے ہیں یار سستے نہیں ملیں گے

وہ جِن پہ شعروں کی شکل میں زندگی لکھی تھیں

وہ کاپیاں، وہ پرانے دستے نہیں ملیں گے

تمہارے ہونٹوں سے ہے کشیدہ غمِ محبت

ہمارے ہونٹ اب کبھی بھی ہنستے نہیں ملیں گے

Sunday, 14 March 2021

گلی سے شور اٹھا کر مکان میں لایا

 گلی سے شور اٹھا کر مکان میں لایا

میں اپنے آپ کو اب جا کے دھیان میں لایا

جلائے لاشۂ عشاق گاؤں والوں نے

تو میرا شعر انہیں داستان میں لایا

میں تیرے مہندی لگے ہاتھ پر ہوا بیعت

میں آج سے مجھے تیری امان میں لایا

Friday, 12 March 2021

برائے نام غذا کے لیے بنے ہوئے ہیں

 برائے نام غذا کے لیے بنے ہوئے ہیں

تمہارے ہونٹ ضیا کے لیے بنے ہوئے ہیں

ہم ایسی آئتیں بے ترجمہ پڑھی گئی تھیں

ہم ایسے سجدے قضا کے لیے بنے ہوئے ہیں

یہ آنکھیں دیکھنے کے کام تو نہیں آتیں

یہ دونوں کان ہوا کے لیے بنے ہوئے ہیں

Thursday, 12 November 2020

دیکھنے میں جو خداؤں سے ڈرے سوچتے ہیں

 دیکھنے میں جو خداؤں سے ڈرے سوچتے ہیں

کون جانے کہ اکیلے میں کسے سوچتے ہیں

ہم ترے دست مسیحائی کو ترسے ہوئے لوگ

جس سے بھی ہاتھ ملاتے ہیں تجھے سوچتے ہیں

یہ تجھے دیکھنے کی کوششِ ناکام ہے پر

شہر میں جتنے بھی اندھے ہیں دِیے سوچتے ہیں