گلی سے شور اٹھا کر مکان میں لایا
میں اپنے آپ کو اب جا کے دھیان میں لایا
جلائے لاشۂ عشاق گاؤں والوں نے
تو میرا شعر انہیں داستان میں لایا
میں تیرے مہندی لگے ہاتھ پر ہوا بیعت
میں آج سے مجھے تیری امان میں لایا
وہ کینوس کے ہر اک رنگ میں مزین تھی
پھر اس زمین کو میں آسمان میں لایا
تِری پکار کی تاثیر جانتا ہوں میں
اسی لیے تِرا لہجہ زبان میں لایا
وہ چاہتا تھا بِنا دیکھے ہی دکھائی دے
وہ خود کو اس لیے ہر اک گمان میں لایا
اٹھا کے مجھ کو وہ اک شخص میرے کمرے سے
یہاں پر آپ سبھی دل زدان میں لایا
رعایتی سا مِرا عشق تھا محبت تھی
یہی نصاب مجھے امتحان میں لایا
مداریوں کی طرح خواب سے نچاتا ہوا
اٹھا کے خود کو میں اپنی دُکان میں لایا
مِرا حریف کھلاڑی نہیں اناڑی تھا
سو میں بھی حرف و سخن سب میان میں لایا
ذکی عاطف
No comments:
Post a Comment