Sunday, 14 March 2021

گلی سے شور اٹھا کر مکان میں لایا

 گلی سے شور اٹھا کر مکان میں لایا

میں اپنے آپ کو اب جا کے دھیان میں لایا

جلائے لاشۂ عشاق گاؤں والوں نے

تو میرا شعر انہیں داستان میں لایا

میں تیرے مہندی لگے ہاتھ پر ہوا بیعت

میں آج سے مجھے تیری امان میں لایا

وہ کینوس کے ہر اک رنگ میں مزین تھی

پھر اس زمین کو میں آسمان میں لایا

تِری پکار کی تاثیر جانتا ہوں میں

اسی لیے تِرا لہجہ زبان میں لایا

وہ چاہتا تھا بِنا دیکھے ہی دکھائی دے

وہ خود کو اس لیے ہر اک گمان میں لایا

اٹھا کے مجھ کو وہ اک شخص میرے کمرے سے

یہاں پر آپ سبھی دل زدان میں لایا

رعایتی سا مِرا عشق تھا محبت تھی

یہی نصاب مجھے امتحان میں لایا

مداریوں کی طرح خواب سے نچاتا ہوا

اٹھا کے خود کو میں اپنی دُکان میں لایا

مِرا حریف کھلاڑی نہیں اناڑی تھا

سو میں بھی حرف و سخن سب میان میں لایا


ذکی عاطف

No comments:

Post a Comment