Showing posts with label جمیل اجمیری. Show all posts
Showing posts with label جمیل اجمیری. Show all posts

Friday, 19 June 2026

تیری آنکھوں سے کچھ روشنی آتی ہے

 تیری آنکھوں سے کچھ روشنی آتی ہے

دل پہ جیسے کوئی چاندنی آتی ہے

میری ہر سانس تیرے خیالوں میں ہے

تجھ سے مل کر نئی زندگی آتی ہے

خامشی میں بھی گونجتی ہے صدا

جب تُو بولے،۔ تو بندگی آتی ہے

Wednesday, 1 April 2026

دل نے پھر آج تجھے یاد کیا ہے چپکے سے

 دل نے پھر آج تجھے یاد کیا ہے چُپکے سے

‏جیسے کوئی خواب سجاتا ہے چپکے سے

‏ہم نے ہنس کر بھی دُکھ چھپائے ہیں دنیا سے

‏دل مگر رات کو رو جاتا ہے چپکے سے

‏ وہ جو کہتے تھے کبھی چھوڑیں گے نہ ساتھ میرا

‏آج وہی ہاتھ چُھڑا جاتا ہے چپکے سے

Tuesday, 31 March 2026

چھوڑ دے ساری دنیا کسی کے لیے

 چھوڑ دے ساری دنیا کسی کے لیے

یہ مناسب نہیں ہے، آدمی کے لیے

پیار سے بھی ضروری کئی بات ہیں

پیار سب کچھ نہیں ہے، زندگی کے لیے

دل کو بے مول بیچو نہ جذبات میں

قدر باقی رہے، آدمی کے لیے

Monday, 30 March 2026

کیسا شہر معنی ہے کہ سب کچھ جل رہا ہے

 کیسا شہرِ معنی ہے کہ سب کچھ جل رہا ہے

مگر آئینۂ ادراک اب بھی کھل رہا ہے

فقیہِ وقت کے فتویٰ سے سچ دب سا گیا تھا

مگر ہر لفظ کے باطن میں سُورج پل رہا ہے

سلاسل اوڑھ کر بیٹھے ہیں اہلِ زر و مسند

ضمیرِ عصر پھر آہن کے سانچے میں ڈھل رہا ہے