تیری آنکھوں سے کچھ روشنی آتی ہے
دل پہ جیسے کوئی چاندنی آتی ہے
میری ہر سانس تیرے خیالوں میں ہے
تجھ سے مل کر نئی زندگی آتی ہے
خامشی میں بھی گونجتی ہے صدا
جب تُو بولے،۔ تو بندگی آتی ہے
تیری آنکھوں سے کچھ روشنی آتی ہے
دل پہ جیسے کوئی چاندنی آتی ہے
میری ہر سانس تیرے خیالوں میں ہے
تجھ سے مل کر نئی زندگی آتی ہے
خامشی میں بھی گونجتی ہے صدا
جب تُو بولے،۔ تو بندگی آتی ہے
دل نے پھر آج تجھے یاد کیا ہے چُپکے سے
جیسے کوئی خواب سجاتا ہے چپکے سے
ہم نے ہنس کر بھی دُکھ چھپائے ہیں دنیا سے
دل مگر رات کو رو جاتا ہے چپکے سے
وہ جو کہتے تھے کبھی چھوڑیں گے نہ ساتھ میرا
آج وہی ہاتھ چُھڑا جاتا ہے چپکے سے
چھوڑ دے ساری دنیا کسی کے لیے
یہ مناسب نہیں ہے، آدمی کے لیے
پیار سے بھی ضروری کئی بات ہیں
پیار سب کچھ نہیں ہے، زندگی کے لیے
دل کو بے مول بیچو نہ جذبات میں
قدر باقی رہے، آدمی کے لیے
کیسا شہرِ معنی ہے کہ سب کچھ جل رہا ہے
مگر آئینۂ ادراک اب بھی کھل رہا ہے
فقیہِ وقت کے فتویٰ سے سچ دب سا گیا تھا
مگر ہر لفظ کے باطن میں سُورج پل رہا ہے
سلاسل اوڑھ کر بیٹھے ہیں اہلِ زر و مسند
ضمیرِ عصر پھر آہن کے سانچے میں ڈھل رہا ہے