Sunday, 27 September 2026

کاش منت کش اظہار نہ ہونا پڑتا

 اظہار

اپنی شریک حیات الزبتھ (زیبا کے لیے)


اب تِرے جسم سے اُٹھتی ہوئی خُوشبو کی لپٹ

میرے احساس پہ آویزاں ہے

گرم ہے کمرے کی خاموش فضا

تیرے عارض پہ پسینے کی نمی

ذہن میں لاتی ہے برسات کی پہلی راتیں

نیم سگرٹ تِرے پوروں میں دبی

سرخئ لب نے نشاں چھوڑ دیا ہے جس پر

کہہ رہی ہے کہ حقیقت ہے فقط دور رواں

تُو بھی خاموش ہے، میں بھی چُپ ہوں

اور ہم دونوں یہی سوچ رہے ہیں دل میں

کاش منت کشِ اظہار نہ ہونا پڑتا


منیب الرحمٰن

No comments:

Post a Comment