کب تھی وہ شے بہار میں کب تھی خزاں کے پاس
جو اب ہمارے دور کے ہے گُلستاں کے پاس
کتنی ہیں بستیاں جو معلّق خلا میں ہیں
کتنے جہاں، رُکے ہوئے ہیں کہکشاں کے پاس
چٹیل ہیں رہگزاروں کے سینے کُھلے ہوئے
اب خاک بھی نہیں ہے کسی کارواں کے پاس
جب ریگ ہی نہیں رہی صحرائے زیست میں
پھر ناقۂ خیال کہاں سارباں کے پاس
اب دھڑکنوں کی تاؤ پہ ہے زندگی سوار
ہر سانس مثل سیل ہے اس ناتواں کے پاس
ہم نے لیا ہے درد کی ہمسائیگی کا لطف
ہم کیسے گھر بنائیں کسی مہرباں کے پاس
اک وقت میں کُھلے گا زمانے پہ اے منیب
جو زندگی کا راز ہے اس رازداں کے پاس
منیب برہانی
No comments:
Post a Comment