Tuesday, 22 September 2026

انجانے رشتوں کا موسم آیا ہے

انجانے رشتوں کا موسم آیا ہے

کون ہے اپنا یوں بھی کون پرایا ہے

دھرتی کے سُورج نے آگ لگائی ہے

آسمان پر انسانوں کا سایا ہے

ہم مخلوق میں بہتر ہیں، یہ دعویٰ ہے

ہم نے ہی آئینوں کو شرمایا ہے

محنت کی روزی سے گھر نیلام ہوا

ناجائز پیسوں سے گھر بنوایا ہے

خوش ہوں اب میں بچوں کے مستقبل سے

آنگن میں چھوٹا سا پیڑا لگایا ہے


مظہر رحمٰن  

No comments:

Post a Comment