Tuesday, 22 September 2026

زوال عظمت انساں کا مرثیہ ہوں میں

 زوال عظمت انساں کا مرثیہ ہوں میں

سر کشیدہ پہ دستار بے انا ہوں میں

سگ زمانہ سے آگے نکل گیا ہوں میں

اب اپنے سامنے تنہا کھڑا ہوا ہوں میں

مرے وجود میں در آیا کیسا سناٹا

کہ ریگزار میں گم گشتہ اک صدا ہوں میں

ڈبو نہ دے کہیں مجھ کو بھی تشنگی کا سفر

کہ ریگ ریگ سرابوں کا سلسلہ ہوں میں

ادھر سے ہو کے کوئی مہرباں ہوا گزرے

دیار حبس میں صدیوں سے گھٹ رہا ہوں میں

جسے ملی ہے سزا حرف حق سنانے کی

صلیب لب پہ وہ ٹھہری ہوئی صدا ہوں میں

کھڑا ہوا ہوں حریفوں میں سر جھکائے ہوئے

کہ اپنے آپ سے اب کے بہت جدا ہوں میں

نہ کوئی عکس منور نہ منظر خوش رنگ

یہ کیسے خواب کے بستر پہ سو رہا ہوں میں

عجیب آندھی ہے یہ جسم و جاں کی آندھی بھی

مجھے سنبھال بکھرنے سے ڈر رہا ہوں میں

کبھی نہ چھو سکی باب اثر دعا میری

عجیب قہر مسلسل میں مبتلا ہوں میں

مجھے برسنے کی توفیق دے مرے اللہ

کہ ابر بن کے زمانے پہ چھا گیا ہوں میں

نہ چھو سکی مجھے حرص و ہوس کی پرچھائیں

خدا کا شکر قناعت سے آشنا ہوں میں

رفوگران ہنر ناز بے نمک تھے مگر

پھر اپنے زخم کو شاداب دیکھتا ہوں میں


ناز قادری

No comments:

Post a Comment