ایک لمحے کا ہے یہ جہاں دوستو
ہم رہیں پھر کہاں، تم کہاں دوستو
اتنا سامان شانوں پہ کیوں لے چلیں
مُختصر ہے بہت یہ جہاں دوستو
ان بہاروں کو دائم سمجھنا نہیں
آئے گی کل خزاں بھی کہاں دوستو
اپنا سینہ ہے رازوں کا قُلزم مگر
کوئی اپنا بھی ہو رازداں دوستو
خاکِ ہستی حقیقت ہے انور کی بس
اس کو سمجھو نہ تم آسماں دوستو
سید انور سعید
No comments:
Post a Comment